Aurat Khud Gharz Ya Dunya Dar
عورت خود غرض یا دُنیا دار
انسانی معاشرے میں عورت کے کردار پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے۔ کبھی اسے ایثار و قربانی کی علامت کہا گیا اور کبھی اسے خود غرض اور دنیادار قرار دیا گیا۔ خاص طور پر مشرقی معاشرے میں جب کوئی عورت اپنے مفادات کا تحفظ کرے یا اپنی زندگی کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرے تو اسے فوراً خود غرضی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت فطری طور پر خود غرض ہوتی ہے یا وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اپنے حالات اور تجربات کے مطابق فیصلے کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ انداز میں تلاش کرنا ہوگا۔
خود غرضی اور دنیاداری دو مختلف تصورات ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں دونوں کو ایک ہی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ خود غرضی سے مراد یہ ہے کہ انسان صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچے اور دوسروں کے حقوق یا ضروریات کو نظر انداز کر دے۔ اس کے برعکس دنیاداری سے مراد زندگی کے عملی تقاضوں کو سمجھنا اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہے۔ ہر دنیادار شخص خود غرض نہیں ہوتا اور ہر خود غرض شخص کو صرف دنیادار بھی نہیں کہا جا سکتا۔
عورت کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے تعلقات بناتی اور نبھاتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورت دولت، طاقت اور سماجی حیثیت کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ اس خیال کے پیچھے کچھ حقیقی مشاہدات بھی موجود ہیں لیکن اسے تمام عورتوں پر لاگو کرنا انصاف........
