Guftagu Ka Hunar
انسان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت تعارف اس کی گفتگو ہے۔ لباس، وضع قطع، عہدہ، دولت اور ظاہری وجاہت انسان کی پہچان تو بن سکتے ہیں لیکن اس کے باطن، فہم، تربیت اور ظرف کا حقیقی اظہار اس کے الفاظ سے ہوتا ہے۔
آدمی جب بولتا ہے تو دراصل اپنے اندر کی دنیا دوسروں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اس کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس نے زندگی سے کیا سیکھا، لوگوں کے ساتھ کس طرح رہنا سیکھا، اختلاف کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے علاوہ دوسروں کے وجود کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔
گفتگو محض زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فن، ایک تہذیبی رویہ اور ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہر شخص بول سکتا ہے لیکن ہر شخص گفتگو کرنا نہیں جانتا۔
بولنے اور بات کرنے میں وہی فرق ہے جو شور اور موسیقی میں ہوتا ہے۔ شور کانوں تک پہنچتا ہے جبکہ موسیقی دل میں اترتی ہے۔ اچھی گفتگو بھی وہی ہے جو سننے والے کے ذہن کو روشن کرے، اس کے دل میں احترام پیدا کرے اور تعلقات میں خوش گواری کا سبب بنے۔
بدقسمتی سے ہم نے گفتگو کو اپنی برتری ثابت کرنے، دوسروں کو زیر کرنے اور اپنی معلومات کا رعب جمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات سنی جائے، ہمارے خیالات تسلیم کیے جائیں اور ہماری رائے کو آخری فیصلہ سمجھا جائے، مگر ہم خود دوسروں کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج لوگوں کے درمیان رابطے تو بہت بڑھ گئے ہیں لیکن باہمی تفہیم کم ہوتی جا رہی ہے۔
ہم ایک دوسرے سے باتیں بہت کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ حالانکہ گفتگو کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کھولنے سے پہلے اپنے ذہن اور دل کے دروازے کھولے۔
گفتگو کا پہلا اور بنیادی اصول سننا ہے۔ سننا محض کسی کے بولنے کے دوران خاموش رہنے کا نام نہیں بلکہ اس کی بات کو پوری توجہ، تحمل اور دلچسپی سے سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی بات شروع کرتا ہے تو دوسرا اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جواب تیار کرنے لگتا ہے۔ وہ الفاظ سن رہا ہوتا ہے لیکن مفہوم تک پہنچنے کی زحمت نہیں کرتا۔ بعض لوگ تو دوسرے کی بات کے درمیان ہی اسے ٹوک دیتے ہیں، اس کی بات کاٹ کر اپنی مثالیں دینے لگتے ہیں یا گفتگو کا رخ اپنی ذات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف بدتہذیبی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم دوسرے شخص کو وہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔
ایک اچھا سامع وہ ہے جو بات مکمل ہونے دے، سوال کرے تو وضاحت کے لیے کرے، اختلاف کرے تو دلیل کے ساتھ کرے اور جواب دے تو موضوع کے مطابق دے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ سے منسوب ایک حکمت آموز قول ہے کہ انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ الفاظ محض آوازیں نہیں بلکہ شخصیت کے ترجمان ہیں۔
رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں گفتگو کا جو اسوہ ملتا ہے، اس میں نرمی، وقار، اختصار، وضاحت اور مخاطب کی رعایت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ بات اس انداز سے........
