ایک ہفتہ آذر بائیجان میں (2)
باکو میں تھوڑے قیام کے بعد ہم پروگرام کے مطابق ایک اور شہر Gabala روانہ ہوئے۔ تقریباً ساڑھے تین چار گھنٹے بعد ہم گبالا پہنچے۔ گبالا میں ہمارا ہوٹل شہر سے کچھ دور تھا۔ راستے میں ہمارے ڈرائیور نے ہمیں ایک پہاڑی مقام فائیوفنگر کی طرف اشارہ کیا کہ روایت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی یہاں ملاقات ہوئی تھی اور اس پر دریا اس جگہ سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ اس روایت کی صداقت کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔راستے میں دونوں طرف پہاڑ ہیں اور سبزہ ہے۔ زراعت کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں گائیں اور بکریاں نظر آتی ہیں یہاں غالباً بھینس اور بکرے نہیں ہوتے۔
راستے میں ایک قدیم مسجد دیکھنے کا موقع ملا۔ جامع مسجد Shamakhi سن 743ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ 1859ء اور پھر 1902ء میں زلزلوں کی وجہ سے اس مسجد کو بہت نقصان پہنچا۔1918ء میں آرمینیا کے قوم پرستوں نے مسجد کو آگ لگا دی۔ 2010-2013ء میں صدر الحام علیوف کے حکم پر مسجد کی مرمت کی گئی۔ یہاں میری بیوی نے اس تاریخی مسجد میں نماز پڑھ لی۔ میں نے چار پانچ گھنی داڑھیوں والے علماء کے ساتھ تصویر بنوائی۔
گبالا پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی کچھ وقت کرنسی تبدیل کرانے میں ضائع ہو گیا۔ ان کی کرنسی کا نام منات ہے۔ یہاں ایک سو ڈالر کے 169 منات ملتے ہیں۔ رات کو ایک انڈین ریسٹورنٹ مالابار میں کھانا کھایا اور انڈین گانے سنے اس کے بعد ہوٹل میں سیٹل ہو گئے۔ اگلے دن ایک ریزارٹ پہنچے وہاں ایک بڑا ہوٹل ہے اور ساتھ ہی چیئرلفٹ کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی پر........
