نئے صوبے، نئے ریٹ
یادش بخیر جب عمران خان نے نیا پاکستان بنایا اور کرپشن ختم کرنے کا اعلان کیا تو کسی ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کو کہتے سنا کہ اب رشوت کا ریٹ بڑھا دیا ہے، کیونکہ عمران خان نے کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگا دیا ہے۔ پہلے جو کام ہم ایک روپے کی رشوت لیکر کرتے تھے آئندہ سے دو روپے لیں گے تاکہ پکڑے جائیں تو اوپر والا ایک روپیہ دے کر چھوٹ سکیں۔ ان کے مطابق اوپر کے ایک روپے کو عمران ریٹ کا نام دیا ہوا ہے۔ یعنی
ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اگر کوئی ایک کام واقعی تسلسل کے ساتھ ہوتا ہے، تو وہ ہے‘مسائل کو حل کرنے کی بجائے نئے دفتر قائم کرنا’۔ جب بھی ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے، بجلی کے بل آئن سٹائن کے نظریات سے بھی پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور حکومت کو سمجھ نہیں آتا کہ عوام کا دھیان کس طرف موڑا جائے۔تو فوراً ایک سنہری فائل پر سے گرد جھاڑی جاتی ہے، جس پر لکھا ہوتا ہے: ”نئے صوبوں کا قیام“۔
ٹاک شوز کے اینکرز اپنی ٹائی کی گرہ کس لیتے ہیں، سیاستدان اپنے آستینیں چڑھا لیتے ہیں اور نقشہ بنانے والوں کی نقشہ بازی شروع ہو جاتی ہے۔
سب سے پہلا اور مقبول ترین ڈرامہ ’جنوبی پنجاب‘ یا ’سرائیکی صوبے‘ کا ہوتا ہے۔ پنجاب کا سائز ماشاء اللہ اتنا بڑا ہے کہ اگر کوئی ملتان سے نکلے اور لاہور ہائی کورٹ پہنچے، تو جب تک اس کی باری آتی ہے، اس کی اگلی نسل بالغ ہو چکی ہوتی ہے۔
ہمارے سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ صوبہ نیا بنے گا، تو لاء........
