menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ریلوے کے وزیر کتنی بوگیاں چیک کر سکتے ہیں؟

17 0
yesterday

ہماری گورننس کا فارمولا دنیا میں سب سے جدا ہے یہاں جو محکمے میں سب سے اوپر بیٹھا ہوا ہے وہ نچلی ترین سطح کے حالات جاننے نکل پڑتا ہے۔اس اس زمانے میں کہ جب شیدے ریڑھی والے جیسے پاکستانیوں کو بھی شعور آ گیا ہے ایسے ڈراموں سے بھلا کیونکر متاثر کیا جا سکتا ہے، مگر کیا کریں کارکردگی بھی تو دکھانی ہے۔اب ایک ایسے ملک میں جہاں پر دو چار دن بعد خبر آ جاتی ہے کہ فلاں گاڑی کی بوگیاں پٹڑی سے اُتر گئیں، مین لائن پر بارہ یا چوبیس گھنٹے ریلوے ٹریفک بند رہی،لوگ زخمی ہوئے کچھ ویران علاقے میں پڑے رہے وہاں اگر ریلوے کا وزیر درجنوں کیمرہ مینوں کے ساتھ بوگیوں کے اندر جا کے مسافروں سے یہ معلوم ہوتا رہے سفر کیسا کٹ رہا ہے،واش روم میں پانی ہے یا نہیں،بوگی کے پنکھے چل رہے ہیں، کوئی تکلیف  تو نہیں ہو رہی اور خود مسافروں کا رخ کیمروں کی طرف کرا کے انہیں تعریفی جملے بولنے کو کہیں تو کیا  اِس طرح ریلوے کی سروس بہتر ہو جائے گی۔روزانہ سینکڑوں ریل گاڑیاں چلتی ہیں اگر وزیر صاحب ہی نے سب جا کر حالات کا جائزہ لینا اور معیار چیک کرنا ہے تو پھر اُن ہزاروں ملازمین کا اچار ڈالنا ہے جو اوپر سے نیچے تک انہی کاموں کے لئے موجود ہیں۔مسئلہ تو یہی ہے کہ وزیر کو سامنے آ کر بتانا پڑتا ہے دیکھو میں موجود ہوں۔ہم........

© Daily Pakistan (Urdu)