menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سمجھ پر پردے

17 0
previous day

جس طرح پردے چہروں کو چھپا دیتے ہیں۔لباس جسم کو ڈھانپ دیتا ہے ۔ تاریکی چیزوں کو چھپا دیتی ہے۔ اُسی طرح نفرت ،بغض ،حسد ، کینہ ، غرور، عداوت اور حقارت سمجھ کو چھپا دیتے ہیں۔ حقائق پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ سمجھ کو ڈھانپ لیتے ہیں ۔جس قدر بغض،حسد ،کینہ غرور ،نفرت ،عداوت اور حقارت کی تہیہ گہری ہوتی ہیں اُسی قدر مضبوط بھی ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ اُسی قدر تہہ در تہہ سمجھ کو نقابوں میںڈھانپ کر چھپاتی چلی جاتی ہیں۔ جب عقل ،نفرت یا محبت کے تابع ہوجائے تو سمجھ مائوف ہوجاتی ہے کیونکہ کان صحیح بات سن پاتے ہیں نہ ہی زبان اچھی بات بول پاتی ہے، آنکھیں صاف صاف دیکھ نہیںسکتیں اور دل اندھے ہوجاتے ہیں۔بغض حسد ،نفرت، عداوت اور حقارت گہرے ہوجائیں تو عزت بے عزتی کے معیار بن جاتے ہیں۔ پھر وہ انفرادی سرحدوں کو پھلانگ کر گر وہی سطح تک راسخ ہوجاتے ہیں۔ لوگ تن من دھن کے ساتھ ان کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جس طرح غصہ عقل کو کھاجاتاہے اسی طرح یہ اوصاف سمجھ کوکھا جاتے ہیں۔ آدمی شیطان کے ہتھے چڑھ جاتاہے۔عقل اور سمجھ میںکیا فرق ہے ؟ سمجھ ہمیں چیزوں کا ادراک کراتی ہے ۔عقل اُس سمجھ کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ سمجھ بچے میںبھی ہوسکتی ہے جبکہ عقل بلوغت پرآتی ہے۔ تبھی بچہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ عاقل نہیں ہوتا ۔ گناہ گار پشیمان ہوسکتا ہے۔ بچہ پیشمان نہیں ہوتا کیونکہ اسے گناہ اور ثواب کی عقل نہیں ہوتی ۔ حواس خمسہ سمجھ پیدا کرتے ہیں۔ حواس خمسہ میں عقل شامل نہیں ہے۔ حواس خمسہ طبعیاتی علوم سکھلاتے ہیں جبکہ عقل غیرطبعیاتی ہونے کے باعث طبعی حقیقتوں کے علاوہ بابعدطبعیاتی حقیقتوں کا ادراک بھی کراتی ہے۔ سمجھ اور عقل میں کیا فرق ہے؟ آدمی کی سمجھ اس کی عقل کے تابع ہوتی ہے۔ ا گر عقل ہی بغض ،حسد ، کینہ ،غرور ، محبت نفرت ،عداوت اور حقارت کے تابع ہوجائے تو آدمی انسانیت کے مرتبے سے گر کر پاش پاش ہوجاتا ہے ۔ وہ مکمل طور پر اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے ۔اس بات کا مشاہدہ ہے ہم روز مرہ کی بنیاد پر دنیا بھر کے گھروں کے اندر ،گلی محلوں ، برادریوں اور معاشروں میں کرتے رہتے ہیں۔ ان حقائق کا تعلق صرف پسماندگی ، بیماری اور بھوک اورننگ تک ہی محدود نہیں ہوتا۔ اُس کا تعلق ہر طرح کی آسودگی ،خوشحالی، جاہ وجلال اور کروفر تک پھیل جاتاہے۔ علی فرماتے ہیں ’’ہر شخص اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے‘‘ جب تک آدمی بولتا نہیں ہے اس کے عیب وہنر چھپے رہتے ہیں۔ تبھی ایک اور جگہ دوسرے انداز میں فرمایا ’’بولو کہ پہچانے جائو‘‘ بولنے سے آدمی کی شناخت ہوجاتی ہے اُس کی گفتگو اور نسخہ اسے جاہل عزت یا قابل مذمت بنا دیتا ہے۔ تبھی شاعر کہتا ہے۔ غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ بڑا دلنشین رکھتا تھا آدمی کی گفتگو اس کی سمجھ کی ترجمان ہوتی ہے۔ تبھی تو اللہ فرماتا ہے ’’ وہ جیسے چاہتاہے حکمت عطا کرتاہے اور جیسے حکمت دی گئی اُسے بہت بھلائی دی گئی (سورہ بقرہ آیت 269)۔ حکمت سے مراد گہری سمجھ، دانائی اور صحیح فہم ہے۔ دنیا میں اس وقت صحیح سمجھ ہی مفقود ہوچکی ہے۔ بین الاالقوامی سطح پر فیصلے سمجھ بوجھ سے عاری حکمران ہی کررہے ہیں۔ دنیا بھر کو نفرتوں ، عداوتوں ، کینوںاور حقارتوں سے بھرے دلوں اور دماغوں کے ساتھ تباہ کن جنگوں کے شعلوں میں پوری تندہی کے ساتھ دنیا کو جھونک رہے ہیں۔ جس طرح بھیڑئیے اکیلی بکری کو دیکھ کر یک لخت جھپٹتے ہیں بالکل اسی طرح بین الالقوامی بھیڑئیے بھی اکیلے ایران کو دبوچنے کے لئے بے تاب ہیں۔ جس طرح بدمعاشوں کے نرغے میں ایک لڑکی اپنی عزت بچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی بالکل اسی طرح ایران بھی اپنی عزت اور احترام کی حفاظت کیلئے اکیلا نبرد آزما ہے۔ وہ صرف اللہ کے بھروسے اور اسکے رسول ؐ کی اطاعت پر یہ جنگ لڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف ساری شیطان اور طاغوتی قوتیں اُس کے خلاف متحد ہو کر برسرپیکار ہیں ۔ کافر ہے تو شمشیر پے کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی وہ جو کہتے ہیں ’’زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو ‘‘ وہ پوری دنیاکے لوگو ں کا ایران کے ساتھ یک جہتی کے اظہار سے ظاہر ہوتاہے ۔ اُن ملکوں کے عوام بھی جو ایران کے خلاف بڑھ چڑھ کر آگے آگے ہیں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ ساری مسلمان حکومتوں کے برخلاف مسلم امہ ّ بڑی جرات اور بے باکی کے ساتھ ایک مسلم برادر ملک ایران کی حمایت میں کمر بستہ ہوگئی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ جنگ اب منڈیوں کے لئے جنگ نہیں رہی۔ تیل اور گیس کے کنوئوں کے لئے محدود نہیںرہی ۔ آبی، فضائی اور زمینی گزرگاہوں پر اجارہ داری کے لئے ہی نہیںرہ گئی۔ اس جنگ نے اب حق اور باطل کی جنگ کا روپ دھار لیاہے۔ یہود اور نصاریٰ ایک ہوکر مسلمانوں کا قلعہ قمع کرنے پر تل گئے ہیں ۔ اللہ پہلے ہی متنبہ کرچکا ہے کہ یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنائو کیونکہ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔وہ ملکر مسلمانوں کے خلاف سازشیں بھی کرتے ہیں اور کھلی جنگیں بھی۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس جنگ میں وہ قومیں جو یہودونصاریٰ نہیں ہیں جس طرح کہ روس ، چین ، جاپان ، کوریا وغیرہ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔ اللہ نے مسلمانوں کو یہ بہترین موقع فراہم کیا ہے کہ اپنی صفحوں میں متحد ہوکر متفقہ طور پر اسلام پر اس یلغار کا مقابلہ کریں ۔کیوں ؟ ہم آپس میں تو سنی شعیہ اورنہ جانے کیا کیاکچھ ہوسکتے ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل ہمیں ایک سمجھتے ہیں۔ مسلمان سمجھتے ہیں۔ ہم چاہے ایک دوسرے کو کافر کہتے رہیں اُن کے نزدیک ہم مسلمان ہیں اپنے ہمیں سمجھیں یا نہ سمجھیں دشمن ہمیں مسلمان سمجھتا ہے ۔ یہی مسلمان کا سب سے بڑا المیہ ہے اور مسلمان اسی کی سزا بھگت رہاہے ۔ امریکہ اور اسرائیل بظاہر مذہب سے بیگانہ ہوکر بھی کٹر مذہبی ہیں جبکہ مسلمان نمازیں پڑھ کر او ر روزے رکھ کر کبھی مذہبی یگانگت سے عاری ہیں۔ اس لئے کہ ہماری سمجھ پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ خدا ہمارا حا می وناصر ہو ۔آمین۔


© Daily 92 Roznama