پاکستان کے متعلق بھارتی بیان بازی اور خطے کی حقیقت
پاکستان کے متعلق بھارتی بیان بازی اور خطے کی حقیقت
بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان کے بارے میں دیا گیا حالیہ بیان محض ایک سفارتی لغزش نہیں بلکہ خطے میں بدلتی ہوئی حقیقتوں پر ایک اضطرابی ردِعمل معلوم ہوتا ہے۔ کسی بھی ریاست کے اعلیٰ سفارتی منصب پر فائز شخصیت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الفاظ کے انتخاب میں وقار، توازن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، مگر جب یہی منصب ذاتی یا قومی تعصب کے اظہار کا ذریعہ بن جائے تو اس کے اثرات محض بیانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ علاقائی فضا کو بھی مکدر کرتے ہیں۔ پاکستان کو ’’دلال‘‘ قرار دینے کا بیان نہ صرف غیر شائستہ ہے بلکہ اس میں وہ سفارتی سنجیدگی بھی مفقود ہے جو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے اس کی کوششیں، عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف مختلف علاقائی تنازعات میں مفاہمتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھی سنجیدہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے میں بھارتی وزیر خارجہ کا بیان اس حقیقت کی نفی نہیں بلکہ اس پر ایک غیر محتاط ردِعمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔پاکستان کی جانب سے اس بیان کو مسترد کرنا ایک فطری اور ضروری سفارتی ردِعمل تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بجا طور پر اسے کھلی منافقت اور دوغلے پن کا مظہر قرار دیا۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت خود خطے میں عدم استحکام کے متعدد واقعات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملوث رہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی ہو یا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، یہ تمام حقائق عالمی سطح پر زیرِ بحث آ چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا دراصل اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا بھی ایک تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ داخلی سیاست میں مذہبی جذبات کو ابھار کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی حکمت عملی نہ صرف بھارتی معاشرے کو تقسیم کر رہی ہے بلکہ اس کے اثرات خطے کی مجموعی فضا پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم اور امتیازی رویے عالمی اداروں کی رپورٹس کا حصہ بن چکے ہیں، مگر اس کے باوجود بھارتی قیادت کی جانب سے خود کو ایک ذمہ دار جمہوریت کے طور پر پیش کرنا تضاد سے خالی نہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی قیادت نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کا سہارا لیا ہو۔ ماضی میں بھی ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب بھارتی وزراء اور حتیٰ کہ وزیراعظم کی سطح پر بھی غیر ذمہ دارانہ بیانات سامنے آئے۔ گزشتہ برس بھارتی وزیراعظم کا پاکستانی عوام کے لیے دیا گیا سخت لہجے پر مبنی بیان اس سلسلے کی ایک واضح مثال ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر اس کے بیانات اور طرزِ عمل اس دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک حقیقی عالمی طاقت وہ ہوتی ہے جو تحمل، برداشت اور بصیرت کا مظاہرہ کرے، نہ کہ اشتعال انگیزی اور الزام تراشی کا راستہ اختیار کرے۔ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں بھی بھارت کا غیر واضح اور محتاط کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ابھی تک ایک متوازن اور خودمختار سفارتی پالیسی اختیار کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔اس کے برعکس پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ایک متحرک اور بامقصد سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون ہو یا خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف سٹیک ہولڈروں کے ساتھ روابط، پاکستان نے اپنی پالیسی میں توازن اور سنجیدگی کو برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، چاہے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا علاقائی استحکام کے لیے اقدامات۔بھارتی وزیر خارجہ کا بیان دراصل اس بدلتی ہوئی حقیقت کا اعتراف ہے جسے براہِ راست تسلیم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ جب کسی ریاست کو اپنے ہمسائے کی مثبت پیش رفت ہضم نہ ہو تو وہ اکثر بیان بازی کے ذریعے اپنی بے چینی کا اظہار کرتی ہے۔ مگر اس طرح کے بیانات نہ تو زمینی حقائق کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی عالمی برادری کی رائے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی حکام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کو فروغ دیں۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی متعدد چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں غربت، بے روزگاری اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل شامل ہیں۔ ایسے میں اشتعال انگیز بیانات نہ صرف مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ عوام کی فلاح کے لیے درکار توجہ کو بھی منتشر کرتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سفارت کاری کا اصل جوہر الفاظ کی جنگ نہیں بلکہ اعتماد سازی اور تعلقات کی بہتری میں پوشیدہ ہے۔ اگر بھارت واقعی خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے تو اسے اپنے طرزِ بیان اور پالیسیوں میں سنجیدگی اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، اس طرح کے بیانات نہ صرف اس کی ساکھ کو مزیدنقصان پہنچائیں گے بلکہ خطے میں اس کے کردار کو بھی متنازع بناتے رہیں گے۔
