menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hunar, Rang Aur Ustad Ka Hath Kahan Hain

21 1
18.01.2026

لاہور پر واقعی عجیب وقت آن پڑا ہے۔ شہر وہی ہے، چھتیں وہی ہیں، فروری بھی وہی ہے مگر ہنر غائب ہے۔ پتنگ صرف کاغذ اور تیلا نہیں ہوتی تھی وہ ایک صنعت، روایت اور نسل در نسل منتقل ہونے والا علم تھی۔ یہ استاد کے ہاتھوں میں ہوتا تھا اور وہ ہاتھ اب خالی ہو چکے ہیں۔ پتنگیں بنانے والے نہیں رہے۔ جو پرانے لوگ تھے ان میں سے کچھ پنجاب میں پابندی لگنے پر پشاور، کراچی اور دیگر علاقوں میں چلے گئے اور اکثریت نے پیشہ بدل لیا۔ وہ منیاری، دکانداری، مزدوری اور دوسرے شعبوں میں ڈھل گئے۔ پنجاب میں پتنگ ساز انڈسٹری سے تیس لاکھ لوگ وابستہ تھے۔ موچی دروازہ، مریدکے، شاہدرہ اور گجرات کے کئی دیہات میں بسنے والوں کا کام دن رات پتنگیں بنانا تھا۔ مجھے یاد ہے سیالکوٹ کے دارہ آرائیاں کا بازار۔ وہ بازار نہیں تھا وہ رنگوں کی نمائش تھی۔ قطار در قطار لٹکتی پتنگیں دور سے ہی بلا لیتی تھیں۔

آس........

© Daily Urdu