menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sunna Bhi Zaroori Hai

17 0
previous day

ہم بولتے ریتے ہیں۔۔ کیوں کہ ہمیں صرف بولنا ہی اچھا لگتا ہے۔ ہم سنتے نہیں ہیں یا کم سنتے ہیں۔۔ اس لئے ہم کم سمجھتے ہیں۔۔ اچھی سمجھ کے لئے اچھا سامع بننا ضروری ہوتا ہے اور عمومی طور پر ہمارے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "ہم سنتے آدھی۔۔ سمجھتے زیرو پرسنٹ اور ردعمل سو فی صد دیتے ہیں۔۔ اسی فوری ردعمل نے ہمارا بیٹرہ غرق کر دیا ہے۔۔ اگر ہم۔ کبھی سن بھی لیں تو صرف اس لئے سنتے ہیں کہ اگلے کو جواب دیا جا سکے۔۔ کہاں پر اس کو "زچ" کرنا ہے؟ کہاں پر اس کی "منجی" ٹھوکنی ہے۔۔ کہاں پر اس کی تذلیل کرنی ہے اور کہاں پر اس کے مؤقف کی "دھجیاں" بکھیرنی ہیں؟ اچھی سماعت کرنے والا اچھا فہم و ادراک پاتا ہے۔۔ فیصلہ کرنے کی اچھی قوت پاتا ہے۔۔ ہم جب سماعت کے آداب سے ہی واقف نہیں تو ہمارے کلام میں "اثر افرینی" کیسے آئے؟

جن بچوں کو گھروں میں توجہ سے سنا جاتا ہے وہ زیادہ خود اعتماد ہوتے ہیں۔۔ وہ زیادہ محبت و پیار کا اظہار کرتے ہیں۔۔ وہ زیادہ احساس والے ہوتے ہیں اور جن کے کلام پر اور حرکات پر ہر وقت احکامات کی بوچھاڑ ہو۔۔ حکم عدولی کے طعنے ہوں۔۔ چیخ و پکار ہو۔ ڈانٹ ڈپٹ ہو۔۔ وہ پھر تمیز بھولنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ وہ تہذیب کی پھر پراوہ نہیں کرتے۔۔ وہ شوخی، بدزبانی، غیر سنجیدہ رویے اور بے حسی سیکھتے ہیں۔۔ وہ عدم اطمینان اور عدم تحفظ کی کیفیات میں ہی رہتے ہیں۔ وہ سختی و درشتی کو ہی اپنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ معاشرے میں بھی سخت رویوں کا اظہار کرکے باہمی نفرت سمیٹتے بھی ہیں اور بانٹتے بھی ہیں۔۔ وہ انتہا پسندانہ رجحانات کے حامل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ غور کریں تو پتہ چلے گا اس سارے عمل کی ابتداء گھر سے........

© Daily Urdu