Millenium Ki Raat
سارا سیمی پلاٹنسک شہر ملینئم نائٹ کیلئے متجسس تھا لیکن (Y2K) کی افواہ پھیلی تھی کہ ایٹمی میزائیلوں کے سوفٹ ویئر میں جونہی یکم جنوری 2000 کی تاریخ تبدیل ہوگی یہ خود بخود فائر ہو کر ساری دنیا تباہ کر دیں گے، شام تک ٹی وی پر خبر نشر ہو چکی تھی کہ اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا گیا ہے، نتیجہ سڑکوں پر رش بڑھ گیا، صبح کے وقت جونی آیا تو میں اس کے ساتھ باہر چلا گیا، سڑک پر سے چار رشین لڑکیاں، پنجابی والا محاورہ "رج کے سوہنی" نظر آئیں، خوب بن ٹھن کر آئی تھیں، ان سے راہ و رسم بڑھی، ان کی سربراہی میں ایک کیفے بار میں داخل ہوئے، وہ شور مچا کر شیمپئن مانگیں، ہم انکار کریں۔
ایک گول مٹول میرے قریب آ کر بیٹھی، مجھے باتوں میں لگا کر میری قمیض والی جیب سے ہزار تنگے کا نوٹ اُچک لی، باقیوں نے تالیاں بجا کر اُسے داد دی اور بوتل خریدی، جو چاروں لڑکیوں نے پی، ہم دونوں نے اجتناب کیا، وہ پی رہی تھیں اور انہیں دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ان چار پریوں میں سے کس کو پاکستان لیکر جاؤں، مگر بوتل ختم ہی چاروں ایسے بھاگیں جیسے بلی کو دیکھ کر چوہے بھاگتے ہیں، یہ سرمایہ کاری بیکار گئی تھی، باپ کا مال غلط لوگوں پر خرچ کر دیا تھا، قصہ مختصر فقط ایک نصیحت کے بعد اِدھر اُدھر آوارہ گردی کرکے ہم واپس آگئے۔
شام کے وقت میں باہر جانے کیلئے تیار ہوا تو مدنی نے بتایا "آج کچھ دوستوں نے پلوشد پر جانا ہے اور تم بھی ہمارے ساتھ ہو"۔ میں عذر پیش کیا "سردی بہت ہے"۔ مدنی اپنے مخصوص ڈپلومیٹ لہجے میں بولا "روز ہی سردی ہوتی ہے، کیا آج کوئی نئی سردی ہے؟" میں پھر عذر تراشا "ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ مائنس 40 تک درجہ حرارت گرے گا"۔ مدنی ہنسا "یہ بھی ایک نیا تجربہ ہوگا، دیکھتے ہیں کہ ٹمپریچر زیاہ سے زیادہ کتنا گر سکتا ہے"۔ لیکن میں پکڑائی دینے کے موڈ میں نہیں تھا "یار یقین کر،........
