menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Main Kahan Kaha Se Guzar Gaya

22 7
05.02.2026

گئے وہ زمانے جب شب برات پر مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز سے ساری رات محافل کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ مساجد برقی قمقموں سے سجا کرتیں۔ رونق رہا کرتی تھی۔ دیگیں چڑھا کرتیں۔ گھروں کی منڈیروں پر چراغاں ہوتا تھا۔ دئیے جلتے تھے۔ گلی محلوں میں بچے اور جوان پھلجڑیاں، آتشی انار اور پٹاخے پھوڑتے تھے۔ فجر کی آذانیں گونجتیں تو محلہ خاموشی کی چادر تان کر سو جاتا۔ وہ زمانہ ایک شور تھا مگر مانوس شور، فضا میں خاص قسم کا ردھم تھا۔ کہیں کلفتیں کہیں راحتیں۔

اسی زمانے میں ہماری ہمسائی خالہ صغریٰ حج کرکے آئیں اور مکہ شریف سے کھجوریں اور آب زم زم سے بھرا پلاسٹک کا بڑا جیری کین، کچھ جائے نمازیں، تسبیحات لے کے آئیں۔ میری اماں کے ہمراہ بہت سی محلے دار خالائیں مبارک باد دینے گئیں۔ ایک نے پوچھا سعودی عرب کیسا لگا؟ خالہ نے فوراً تصیحح کی "ہم تو جدہ میں جہاز سے اتر کے مکہ مدینہ گئے تھے، سعودی عرب تھوڑا گئے تھے!"۔ حج کے تین برس بعد ان انتقال ہوگیا مگر آب زم زم کا کین تب بھی آدھا بھرا ہوا تھا کیونکہ خالہ صغری آئی ڈراپس والی نلکی میں آب زم زم بھر کے سادہ پانی سے بھرے گلاس میں احتیاط سے ٹپکا کر صرف مہمانوں کو ہی پلایا کرتی تھیں۔ چنانچہ اس کین میں بچے ہوئے زم زم میں کفن بھگو کر خالہ کو پہنایا گیا تو کین خالی ہوا مگر خالہ کی بیٹی نے یہ خالی کین بھی احتیاط سے اونچی جگہ رکھ دیا۔ آخر کو مکہ شریف سے جو آیا تھا۔ خالہ صغریٰ کا انتقال شبِ برات میں ہوا۔ محلے کی خالائیں جمع ہو کر کہتی تھیں خالہ کو ایسی بابرکت رات نصیب ہوئی کہ اب وہ بنا حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوگئی ہیں۔

رفتہ رفتہ زمانہ آگے بڑھتا گیا۔ بچے سکولز سے کالجز میں پہنچے۔ شبِ برات پر آتشیں مواد کا استعمال ترک ہوا۔ صرف اس ضمن میں معاشرہ شعور کی منازل تیزی سے طے کر گیا۔ اب وہ سب جنریشن وائے یا Millennials کی ناسٹالجیا کا حصہ ہیں۔ اب شب برات چپ چاپ گزر جاتی ہے۔ کبھی کبھی میں اپنی بیٹی اور بیٹے کو کہانیاں سناتا ہوں۔ وہ سب کہانیاں سچی ہوتی ہیں لیکن ان کے منہ حیرت سے یوں کھُلے رہتے ہیں جیسے ان کو یقین نہ آ........

© Daily Urdu (Blogs)