Fuck You
میں یہ بات سمجھتی ہوں کہ لڑنا جھگڑنا ہر شادی شدہ جوڑے کا بنیادی حق ہے۔ بلکہ بعض شادیوں میں تو یہ تعلق اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی حقیقی مسئلہ موجود نہ ہو تو میاں بیوی اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے نئے مسائل ایجاد کر لیتے ہیں۔ کبھی کسی اصل بات پر، کبھی کسی فرضی بات پر اور بہت بار تو دوسروں کی لڑائی پر بھی لڑائی ہو جاتی ہے۔ غرض یہ کہ اگر انسان میں خلوص ہو تو لڑنے کے لیے وجوہات کی کمی کبھی مسئلہ نہیں بنتی۔ اس لیے مجھے لڑائی جھگڑے سے کوئی مسئلہ نہیں، اعتراض صرف بعض لوگوں کی ٹائمنگ پر ہے اور اس کی نوعیت بھی خالصتاً تہذیبی ہے۔
پہلے ہمارے انگریز ہمسائے تھے۔ اللہ ان کے باہمی تعلقات میں مزید استحکام پیدا فرمائے، لیکن رات کے تین بجے سے لے کر فجر تک ان کے ہاں جو پروگرام نشر ہوتا تھا، اس میں چیخنا چلانا، دروازے بند ہونے کی آوازیں، ایک دوسرے کو پٹخنے کی آوازیں اور ان سب کے درمیان "فک یو، فک یو" کا ایسا مسلسل ورد شامل ہوتا تھا کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ شاید ان کے ہاں ازدواجی محبت کی تجدید کا یہی مروجہ طریقہ ہے اور "فک یو، فک یو" کوئی ایسا روحانی وظیفہ ہے جس کے بغیر ان کی شادی شدہ زندگی میں مطلوبہ استحکام پیدا نہیں ہو پاتا۔
شروع شروع میں ہمیں اس بات پر خاص تشویش ہوئی، لیکن جب یہ معمول مستقل بنیادوں پر جاری رہا تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ شاید یہی وہ خاص وظیفہ ہے جو ان کے ازدواجی تعلقات کو مزید مستحکم کرتا ہے، کیونکہ وہ نہایت پابندی اور انہماک کے ساتھ عین تہجد کے وقت اس کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
ان کی اس پابندی اور تسلسل کو دیکھ کر ہمیں شبہ ہونے لگا تھا کہ........
