menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gold Medal Ka Phanda

10 0
latest

انسانی حقوق کی حدود سے دور پرے ایک بستی تھی۔ بستی کیا دشت تھا ایک۔ اس میں ایک گوالا رہتا تھا۔ اس گوالے کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ ننھی آنکھوں میں کوئی انجانی سی تابانی تھی۔ پلکوں پر جیسے خواب جگمگاتے ہوں۔ گردن میں روشنی کا ایک ہالہ سا۔ جیسے یاس کے اندھیرے میں امید کی روشنی کی ایک کرن ہو۔ دشت اندھیروں کی پناہ گاہیں ہوا کرتے ہیں یہاں روشنی کی کرنیں نہیں ہوتیں۔

بچی کچھ بڑی ہوئی تو اپنے باپ کو دودھ بیچتا دیکھ کر کڑھنے لگی۔ کبھی گھٹنوں میں سر دے کر روتی پھر ایک پینسل کاغذ کے کر بیٹھ جاتی۔ اپنا ننھا سر کاغذ پہ جھکائے معصوم ہاتھوں میں پینسل تھامے وہ کاغذ پر آڑی ترچھی لائینیں کھینچ کر ڈرائینگ بناتی تو اس میں ستارے بنایا کرتی۔ پھر ان ستاروں کی کرنوں کو زمین پر لاتی اور ان کرنوں سے دودھ کے ڈول بنا چھوڑتی، پھر اپنے باپ کے گھر آنے پر بھاگ کر وہ ڈرائینگ اپنے سر پر رکھ کر اسے دکھاتی۔ باپ کی آنکھیں بھر آتیں۔ وہ اسے گود میں اٹھا لیتا۔۔ اس کاغذ پر بنے ستارے کاغذ سے اتر کر اسکے سر ہی میں سما گئے۔۔

ننھے کاندھے بستے کا بوجھ اٹھانے کے لائق ہوئے تو اس نے کتابوں کے ساتھ اس خواب کو تہہ کرکے رکھ لیا اور اسکول کے رستے پر چھوٹے چھوٹے پیروں کے ساتھ تیز تیز چلنے لگی۔ کچے راستوں پر تیز قدم یہاں گوارہ نہیں تبھی راستے یہاں کچے رکھے جاتے ہیں۔

عام طور پر اس عمر کی بچیاں آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں تو........

© Daily Urdu (Blogs)