menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zindagi Ko Kyun Chunna Chahiye: Khud Kashi Ke Khilaf Aik Muqadama

19 4
25.01.2026

خودکشی جدید دنیا کے اُن سنگین عوامی مسائل میں شامل ہو چکی ہے جن پر بات کم اور نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 7 لاکھ 3 ہزار افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ شرح خاص طور پر 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ ان اعداد کے پیچھے تعلیمی دباؤ، معاشی غیر یقینی، ذہنی امراض، سماجی تنہائی اور ناکامی کے احساسات جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

ایسے میں ایک بنیادی سوال ناگزیر ہو جاتا ہے: خودکشی کو کیوں روکا جانا چاہیے اور شدید تکلیف کے باوجود زندگی کو کیوں چننا چاہیے؟

اس کا جواب جذباتی تسلی نہیں بلکہ عقلی، سائنسی اور اخلاقی دلائل میں پوشیدہ ہے۔

نفسیاتی تحقیق واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ خودکشی کے خیالات اکثر وقتی ہوتے ہیں۔ برٹش جرنل آف سائیکاٹری میں شائع ہونے والی ایک جامع تحقیق کے مطابق 90 فیصد سے زائد وہ افراد جو خودکشی کی کوشش سے بچ گئے، بعد میں دوبارہ خودکشی نہیں کرتے۔

یہ حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ خودکشی کا ارادہ اکثر مستقل خواہش نہیں بلکہ شدید وقتی ذہنی دباؤ کا نتیجہ........

© Daily Urdu (Blogs)