Jis Ki Lathi, Uss Ka World Order
تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب بھی کوئی عظیم طاقت اپنے زوال کے خوف میں مبتلا ہوتی ہے یا اپنی برتری کو چیلنج ہوتے دیکھتی ہے تو وہ بین الاقوامی قوانین کی قبا اتار پھینکتی ہے اور "قانونِ قوت" (Law of Might) کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہے۔ 3 جنوری 2026ء کی صبح جب دنیا نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری اور امریکی فورسز کی ایک خودمختار ریاست میں مداخلت کی خبر سنی تو یہ محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ بیسویں صدی کے منرو ڈاکٹرائن کی اکیسویں صدی میں خون آشام واپسی کا اعلان تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس جس میں انہوں نے ایک منتخب صدر کو ہتھکڑیاں لگا کر نیویارک لانے کا فخریہ اعلان کیا، اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر اس آخری کیل کے مترادف ہے جو عالمی نظم و ضبط کے تابوت میں ٹھونکی جا رہی ہے۔ منرو ڈاکٹرائن کی واپسی اور قانونِ قوت، تھوسی ڈائیڈزنے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "تاریخِ جنگِ پیلوپونیشین" میں ڈھائی ہزار سال قبل ایک ہولناک سچائی بیان کی تھی کہ طاقتور وہ کرتا ہے جو وہ کر سکتا ہےاور کمزور وہ سہتا ہے جو اسے سہنا پڑتا ہے۔ آج وینزویلا کا واقعہ اسی قدیم فلسفے کی جدید بازگشت ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اب منرو ڈاکٹرائن محض ایک تاریخی اصطلاح نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کا عملی ستون ہے۔ ان کا یہ بیان کہ مغربی نصف کرہ پر امریکی تسلط پر دوبارہ کوئی سوال نہیں کیا جائے گا، عالمی سیاست میں خودمختاری کے تصور کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ جب ایک سپر پاور یہ اعلان کرے کہ وہ........
