Jab Aap Sikhane Ki Jagha Par Ho
جب آپ سکھانے کی جگہ پر ہو
زندگی میں کچھ مقام ایسے ہوتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ ہمیں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بناتا ہے۔ انہی مقامات میں سے ایک مقام وہ ہے جب آپ سکھانے کی جگہ پر ہوں اور جب آپ سکھانے کی جگہ پر ہوں تو صرف آپ کا علم بڑا نہیں ہونا چاہیے، آپ کا ضمیر بھی بڑا ہونا چاہیے۔
کیونکہ سکھانا صرف یہ نہیں کہ آپ کو کچھ آتا ہے اور آپ نے وہ دوسرے انسان کو بتا دیا۔ سکھانا ایک ذمہ داری ہے۔ آپ جس انسان کو سکھا رہے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ پہلی ہی بار میں آپ کی بات سمجھ جائے۔ ضروری نہیں کہ وہ آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر فوراً عمل کرے۔ وہ غلطیاں بھی کرے گا، کبھی آپ کی بات نہیں مانے گا، کبھی وہی غلطی دوبارہ کرے گا جس سے آپ نے اسے منع کیا تھا اور کبھی ایسا بھی ہوگا کہ آپ کے بہت سمجھانے کے باوجود اس کے رویے میں فوری تبدیلی نہیں دیکھ پائیں گے۔
یہاں اصل امتحان صرف سیکھنے والے کا نہیں، سکھانے والے کا بھی ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ بہترین معلم تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «خَيُرُكُمُ مَنُ تَعَلَّمَ الُقُرُآنَ وَعَلَّمَهُ»، "تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے"۔ (صحیح البخاری)
غور کیجیے، سیکھنے اور سکھانے دونوں کو کتنی خوبصورتی سے جوڑا گیا ہے۔ یعنی........
