61
اکسٹھ برس کی عمر میں سالگرہ کو اس شوق و ذوق سے منانا شاید بہت سے لوگوں کے نزدیک بچگانہ پن ہو، مگر ہمارے لیے یہ دن ایک ایسی کھڑکی ہے جسکے پیچھے ایسے دلفریب منظر چھپے ہیں جن کو دیکھنے کی تمنا ہر وقت دل میں سلگتی رہتی ہے۔
سردیوں کی شامیں، باورچی خانے میں امی کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے گاجر کا حلوہ چکھنا جسے امی بھون رہی ہوتیں، ابا کے کمرے میں بجتے ریڈیو پہ نور جہاں گا رہی ہوتی، سانوں نہر والے پل تے بلا کے، امی کے جہیز میں آئے رنگین پایوں والے جہازی پلنگ پہ باجی کے ساتھ لیٹ کر کتابیں پڑھتے پڑھتے سو جانا۔
گرمیوں کی رات میں کھلے صحن میں چارپائی پہ لیٹ کر تارے گننا، پنکھے کی ہوا کا جھونکا محسوس کرنا، بھیگی رات میں ابا کا اٹھ کر کھیس اوڑھانا اور........
