Hostel Ke Drame
ایک دن بھوک لگی، ڈاکٹر بلال وڑائچ کی کنٹین پر روٹی لینے گیا، وہاں عارف کشمیری سٹول پر بیٹھا نظر آیا، بلال نے اسے پارٹ ٹائم جاب پر رکھ لیا تھا، عارف کی پشت دروازے کی طرف تھی، اسے مخاطب کیا، جناب کے چہرے کا رنگ ہی مختلف تھا، میں نے پوچھا "خیریت ہے؟" کھڑا ہو کر گالیاں دینے لگا "نکل جاؤ میرے کشمیر سے، میرا کشمیر لہولہان ہے، تم لوگوں نے کشمیر کو دبوچ رکھا ہے"۔ میں حیران ہوا "تم ہوش میں تو ہو؟ میں روٹی خریدنے آیا ہوں اور تم یہ کیسا سودا بیچ رہے ہو؟" اسے کندھے سے پکڑ کر بٹھانا چاہا لیکن جناب کا غصہ کم نہ ہو رہا تھا، بار بار چلا رہا تھا: "نکل جاؤ میرے کشمیر سے"۔ اتنے میں دو تین لڑکے آ گئے، انہوں نے بتایا "اسے کبھی کبھار دورہ پڑتا ہے، تب ایسی الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے، تم دوسری کنٹین سے خریداری کرلو!"
شام کو میں، ظہور، رانا عقیل کالیا، عبدالرحمن اور زاہد عمران کے کمرے میں بیٹھے پڑھائی کر رہے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا، عارف کے منہ سے، ہونٹوں کے کنارے سے رالیں ٹپک رہی تھیں اور اورنگزیب نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا، سب پریشان ہوگئے "اللہ خیر کرے، عارف کو یہ کیسی بیماری لگ گئی ہے"۔ ہم باری باری عارف سے پوچھنے لگے، وہ جواب دینے کی بجائے پاگلوں کی طرح ہنسے، تالیاں بجائے، انگلی سے سب کی طرف اشارے کرے "آج رات تیری شامت ہے، تیری موت ہے"۔ وغیرہ وغیرہ، ہم اس کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے، مجھے شرارت سُوجھی، ایک ہاتھ بڑھا کر جوتا پکڑا، جھپٹ کر عارف کو پکڑ کر نیچے گرایا اور جوتا اس کے منہ پر جما دیا، اس نے ہلنے جلنے کی بہت کوشش کی لیکن اسے کس کر دبوچ رکھا تھا، چند لمحات بعد وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگا، جیسے ہوش و حواس میں واپس آ رہا ہو، اسے نیچے لیٹا چھوڑ کر میں اُٹھ کھڑا ہوا، عارف آنکھیں ملتا اور کھانستا ہوا اُٹھ کر بیٹھ گیا اور سب سے معذرت کرنے لگا۔
تین چار دن بعد مجھے خبر مل گئی تھی کہ عارف کشمیری نے ندیم پرنس کو اداکاری کرتے دو چار ہاتھ لگا........
