menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Katbe Se Pehle

88 0
17.10.2026

گود میں دھرے ہوئے ہاتھ، کلائی پر چلتی گھڑی، گول فریم کے چشمے کے پیچھے ٹھہری ہوئی مسکراہٹ۔ خانے دار نیلی سرمئی واسکٹ کی جیب میں سفید رومال ایسے سجا تھا جیسے آج کا دن خاص ہو۔ تھا بھی۔ پیچھے بینر پر جرال میڈیا گروپ کے سنہری حروف جھلملا رہے تھے اور بینر کے کونے میں چھوٹے چھوٹے چہروں کی قطاریں تھیں۔ زین سلیم اس شام یوں بیٹھے تھے جیسے کوئی شخص اپنے ہی کتبے کی رونمائی میں آیا ہو اور کتبہ بھی ایسا جو پتھر پر کندہ ہونے سے پہلے ہی پڑھ کر سنایا جا رہا تھا۔

ہمارے ہاں یہی دستور چلا آتا ہے کہ اہلِ قلم کے حق میں جو بہترین جملے ہوتے ہیں، وہ ان کے رخصت ہونے تک اٹھا رکھے جاتے ہیں۔ پھر تعزیتی جلسہ ہوتا ہے، یادگاری شمارہ نکلتا ہے اور قدر کی ساری رقم ایک ہی بار ادا کر دی جاتی ہے، مگر وصول کرنے والا موجود نہیں ہوتا۔ سولہ اکتوبر کو گجرات میں یہ حساب الٹ گیا۔ ادا کرنے والے بھی موجود تھے اور وصول کرنے والا بھی۔

وصول کرنے والے کی کہانی سیدھی نہیں۔ زین سلیم کو کینسر نے دو بار آ لیا۔ دوسرا حملہ ایسا شدید تھا کہ مہینوں انھیں بستر کے حوالے رہنا پڑا۔ جو اس راستے سے گزرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہاں گھڑیاں دواؤں کے وقفوں سے چلتی ہیں اور مستقبل کا مطلب اگلا ہفتہ ہوتا ہے۔ مگر وہ لوٹے اور اس طرح لوٹے کہ قلم ساتھ تھا۔ اسی سولہ اکتوبر کو ان کی سالگرہ تھی اور اسی دن ان کی پانچویں کتاب "گجرات کے درخشاں ستارے: ہم عصر اہلِ قلم کے محبت بھرے خاکے" کو حیاتِ نو ملی۔ یعنی ایک ہی تاریخ پر زندگی کا اگلا برس بھی لکھا گیا اور کتاب کا پہلا ورق بھی۔

اب ذرا کتاب کی جرأت دیکھیے۔ مردوں پر لکھنا آسان ہے، وہ جواب نہیں........

© Daily Urdu