menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Waqia Ashab e Ukhdud

26 0
11.07.2026

تاریخِ انسانیت میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک زمانے یا ایک قوم کی کہانی نہیں رہتے بلکہ حق و باطل، ایمان و جبر اور سچائی و طاقت کے درمیان ابدی کشمکش کی علامت بن جاتے ہیں۔ اصحابِ اُخدود کا واقعہ بھی انہی لازوال داستانوں میں سے ایک ہے۔ یہ محض چند افراد کی قربانی کا ذکر نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جب انسان اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے دل سے ایمان کی روشنی نہیں چھین سکتی۔

قرآنِ مجید نے سورۂ بروج میں اس واقعے کا ذکر بڑے اختصار مگر انتہائی اثر انگیز انداز میں کیا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفصیلات بیان فرما کر اسے قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت، صبر اور استقامت کا ایک عظیم سبق بنا دیا۔ اس واقعے میں ایک ظالم بادشاہ ہے جو اپنے اقتدار کو دوام دینا چاہتا ہے، ایک بوڑھا جادوگر ہے جس کا زمانہ ختم ہو رہا ہے، ایک راہب ہے جو خاموشی سے حق کا چراغ روشن کیے ہوئے ہے اور ایک نوجوان لڑکا ہے جو سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے اور بالآخر پوری قوم کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

قصے کا آغاز ایک ایسے بادشاہ سے ہوتا ہے جو اپنی رعایا پر مکمل اقتدار رکھتا تھا اور اس اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے جادو اور دھوکے کا سہارا لیتا تھا۔ اس کا جادوگر جب بڑھاپے کو پہنچا تو اس نے درخواست کی کہ ایک ذہین لڑکا اس کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ اپنا علم اسے منتقل کر سکے۔ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکے کا انتخاب کیا اور اسے جادو سیکھنے کے لیے مقرر کر دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کے لیے ایک اور راستہ منتخب کر رکھا تھا۔ جادوگر کے پاس جاتے ہوئے اس کا گزر ایک راہب کے پاس سے ہوتا تھا۔ راہب کی گفتگو میں سچائی تھی، دل کی گہرائی تھی اور اللہ کی معرفت کا نور تھا۔ لڑکا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہوتا گیا۔ یوں ایک طرف جادو تھا جو انسان کو فریب دیتا ہے اور دوسری طرف ایمان تھا جو........

© Daily Urdu