menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mutala Shaoor Deta Hai

33 0
28.09.2026

کتابیں پڑھا کریں، اس لیے نہیں کہ آپ بہت کچھ جان جائیں گے، بلکہ اس لیے کہ آپ کو یہ پہچاننے کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی کہ آپ جو کچھ جانتے ہیں، وہ کتنا درست ہے۔ کتاب انسان کو معلومات سے کہیں بڑھ کر ایک ایسی بصیرت عطا کرتی ہے جو اسے آواز اور دلیل، شہرت اور صلاحیت، چہرے اور کردار، الفاظ اور علم کے درمیان فرق کرنا سکھاتی ہے۔

ہمارے عہد کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بلند آواز کو بلند فکر سمجھ لیا جاتا ہے، خوب صورت گفتگو کو علم کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور اعتماد سے بولنے والے ہر شخص کو صاحبِ دانش تصور کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ بلند آواز دلیل نہیں ہوتی، روانیِ گفتار علم نہیں ہوتی اور خوب صورت چہرہ کردار کی ضمانت نہیں ہوتا۔

جو شخص کتابوں سے رشتہ قائم کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ جان لیتا ہے کہ دنیا محض وہ نہیں جو اسے دکھائی دیتی ہے۔ ہر دعویٰ حقیقت نہیں، ہر مقبول بات درست نہیں، ہر مشہور شخص دانا نہیں اور ہر وہ شخص جو دوسروں کو متاثر کرنے کا ہنر جانتا ہو، ضروری نہیں کہ وہ خود بھی علم کی گہرائی رکھتا ہو۔ مطالعہ انسان کے اندر سوال پیدا کرتا ہے اور سوال وہ پہلی سیڑھی ہے جہاں سے شعور کا سفر شروع ہوتا ہے۔

ہم ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں انسان کے پاس بولنے کے ذرائع بہت ہیں مگر سوچنے کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ چند جملے، چند تصاویر، چند پراثر الفاظ اور چند جذباتی دعوے کسی بھی شخص کو لمحوں میں مقبول بنا سکتے ہیں۔ لوگ اکثر کسی شخص کے لباس، لہجے، اعتماد، شہرت یا گفتگو کے انداز سے اس کی قابلیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ کوئی بہت یقین سے بات کرے تو ہمیں لگتا ہے کہ اسے ضرور علم ہوگا، کوئی مشکل الفاظ استعمال کرے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا عالم ہوگا، کوئی ہزاروں لوگوں میں........

© Daily Urdu