menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Charwahon Se Rehnumaon Tak

24 0
11.05.2026

چرواہوں سے رہنماؤں تک

زندگی کے بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان فوری طور پر کوئی بڑی امید قائم نہیں کر پاتا۔ ایک نوجوان صحرا کی تپتی دھوپ میں بکریاں چرا رہا ہو، گرد و غبار اس کے کپڑوں پر جم رہا ہو، ہاتھوں میں لاٹھی ہو، چہرے پر تھکن کے آثار ہوں اور اس کے گرد کوئی ایسی علامت موجود نہ ہو جو یہ بتائے کہ آنے والا زمانہ اسے تاریخ کا عظیم ترین انسان قرار دے گا۔ لیکن قدرت کے فیصلے انسانوں کے اندازوں سے ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے موجودہ حالات سے نہیں بلکہ ان کی صلاحیت، اخلاص، صبر اور نیت سے دیکھتا ہے۔

حضرت موسیٰؑ نے ایک طویل عرصہ بکریاں چرائیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا کام تھا، لیکن اسی صحرا، اسی تنہائی، اسی خاموشی اور اسی جدوجہد نے ایک ایسے انسان کی تربیت کی جسے بعد میں کلیم اللہ کا عظیم مرتبہ عطا ہوا۔ کوہِ طور کی وہ ساعت، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ سے کلام فرمایا، انسانی تاریخ کے عظیم ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ مگر اگر کوئی شخص اس وقت حضرت موسیٰؑ کو مدین کے صحرا میں بکریاں چراتے ہوئے دیکھتا تو شاید اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوتا کہ یہی شخص آنے والے دنوں میں فرعون جیسے جابر بادشاہ کے سامنے حق کا پرچم بلند کرے گا۔

یہی حقیقت حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زندگی میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی جوانی کے ایک حصے میں قریش کے لوگوں کی بکریاں چرائیں۔ معمولی اجرت پر کام کرنا، سخت دھوپ میں محنت کرنا اور سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اس دور میں کوئی غیر معمولی بات........

© Daily Urdu