Aflatoon: Aalam e Fikri Ka Inqilab
افلاطون: عالمِ فکری کا انقلاب
یونان کی روشنی میں جب سورج نے طلوع ہونا شروع کیا تو ایک ایسا دماغ بھی پیدا ہوا جس نے دنیا کو سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا۔ وہ تھا افلاطون، ایک ایسا فلسفی جس کی سوچ نے نہ صرف یونان کو بلکہ پوری دنیا کو فلسفے، سیاست اور علم کی نئی راہوں پر لے کر گیا۔ افلاطون نہ صرف استادِ ارسطو تھے بلکہ خود بھی فلسفے کی دنیا میں ایک روشنی کی کرن تھے جو آج بھی دمکتی ہے۔
افلاطون کی پیدائش تقریباً 427 قبل مسیح میں ایتھنز کے ایک ممتاز خاندان میں ہوئی۔ اُس زمانے کی یونانی ریاست میں سیاست، فلسفہ اور فنون کا ایک گہرا رشتہ تھا۔ افلاطون نے جوانی میں سقراط سے ملاقات کی، جس کے فلسفیانہ مکالمات نے اُس کی سوچ کی بنیاد رکھی۔ سقراط کی موت نے افلاطون کو ایک نئی جہت دی اور اس نے اپنے استاد کے نظریات کو زندہ رکھنے اور آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھایا۔ سقراط کے موت کے بعد، افلاطون نے اپنے خیالات کو کتابوں اور مکالمات کی شکل میں پیش کیا، جو آج فلسفے کے کلاسیکی کتب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
افلاطون کی سب سے مشہور اور انقلابی بات اس کا نظریۂ "ایڈیاز" یا "فارمز" کا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ہماری دنیا صرف ایک سایہ ہے، ایک نقلی دنیا ہے جسے ہم اپنی حواس کے ذریعے دیکھتے ہیں، مگر اصل حقیقت ایک........
