Haram Ke Saaye Mein Muahida
حرم کے سائے میں معاہدہ
جمعے کی سہ پہر مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کی قیادت نے ایک کاغذ پر دستخط کیے اور مسلم دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک نئے معاہدے کا اضافہ کردیا۔ ایک دن پہلے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عمرہ ادا کیا تھا۔ اگلے دن حرم کے سائے میں وہ دستاویز سامنے آئی جس کا نام ہے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ۔
شاید چودہ سو برس میں پہلی بار کسی دفاعی اتحاد پر دستخط اسلام کے مقدس ترین شہر میں ہوئے ہیں اور مقام کا انتخاب اتفاق نہیں۔ مقام ہی اصل پیغام ہے۔
پہلے اپنی پوزیشن صاف کر دوں۔ دل کہتا ہے مبارک ہو، امت کی تین بڑی طاقتیں ایک چھتری تلے آ گئیں۔ مگر دل کے ساتھ پاسبانِ عقل بھی رکھنا پڑتا ہے۔ سو پہلے حقائق، پھر تین کڑوے سوال اور آخر میں وہ بات جو کوئی نہیں کر رہا۔
حقائق یہ ہیں۔ معاہدے کی بنیادی شق وہی ہے جو نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی ہے۔ تینوں میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات تقریباً ایک سال چلے۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 کے اُس پاک سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی توسیع ہے جو اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد ہوا تھا اور جس میں اب ترکی شامل ہوگیا ہے۔ ترک حکام کہتے ہیں معاہدہ دفاعی ہے، کسی کے خلاف نہیں، دوسرے ممالک کے لیے دروازہ کھلا ہے اور ترکی کی نیٹو ذمہ داریوں کو نہیں چھیڑتا۔
اور تینوں کیا لائے ہیں، وہ بھی گن لیجیے۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ اور عرب دنیا کی واحد جی ٹوئنٹی معیشت، جس کا دفاعی بجٹ تقریباً اسی ارب ڈالر ہے۔ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت، جس نے 2023 میں سعودی عرب کو ڈرون بیچ کر اپنی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی سودا کیا اور پاکستان، چھ لاکھ سے زائد فعال فوج کے ساتھ دنیا کی چھٹی بڑی عسکری قوت اور عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت۔ مجموعی آبادی تقریباً چھتیس کروڑ۔ تیل، بارود اور بم، تینوں ایک میز پر۔
اب وہ بات جو سرخیوں میں نہیں ہے اور یہی اِس لکھت کا مغز ہے۔
اِس معاہدے کی تاریخ دیکھیے۔ سات اگست اور اسلام آباد میمورنڈم کی ساٹھ روزہ مہلت کب ختم ہو رہی ہے؟ سولہ اگست۔ صرف آٹھ دن بعد اور وہ جنگ بندی جس پر جون میں ورسائے اور تہران میں دستخط ہوئے........
