menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Neel Ke Sahil Se Taba Khak e Kashgar

15 0
latest

نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر

معلوم نہیں کہ چند باخبر تو کچھ دیدہ ور افراد کی گفتگو سے کشید کردہ خیالات ذہن کے نہاں خانوں میں پختہ ہو رہے ہیں کہ مکہ معاہدہ گریٹر اسرائیل و ناجائز ریاست کے خلاف پراکسیز کی بجائے ریاستی سطح پر منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت کسے جانے والے شکنجہ کا نکتہ آغاز ہے؟ کہ ایران سمیت اسلامی دنیا جان چکی کہ اب تک پراکسیز کے ذریعے لڑی جانے والی لڑائیاں نہ صرف بے گناہ مظلوموں کے بے پناہ قتل عام کا سبب بنیں بلکہ اس سے برادر مسلم ممالک میں افراتفری پھیلا کر انہیں کمزور کرنے کا گناہ الگ رہا۔

غزہ کو ہی دیکھ لیں جہاں ایک اسرائیلی کے بدلے کم از کم 1100 بچوں، عورتوں اور بے گناہوں کے قتل کا تناسب۔ جبکہ لبنان میں مختصر عرصہ میں نہ صرف سینکڑوں کلومیٹر علاقے پر قبضہ ہوا بلکہ سینکڑوں شہادتیں اور املاک کا نقصان اس سے سوا۔ مقابلے میں ابھی تک اسرائیلیوں کی ہلاکتیں 20 سے اوپر نہیں۔ صییونیوں نے مصر کو خائف کر رکھا ہے تو اب شام پر نظریں۔ اسی لیے سلطنت شام کو بچانے اور اسے مضبوط عسکری قوت بنانے کی کوئی کوشش اسے قبول نہیں۔ مگر مکہ معاہدہ کے بعد لگتا یوں ہے کہ ترکیہ ہر صورت شام کو طاقتور بنانا و دیکھنا اور اسرائیلی چیرہ دستیوں سے بچانے کی ٹھانے ہوئے ہے۔

اب تک شام سمیت دیگر خطوں میں پراکسیز کے ذریعے کاروائیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں اور اب مسلم ممالک بالخصوص پاکستان، سعودیہ اور ترکییہ، ایران کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ مسلم ممالک میں ایسی کوششیں صیہونیت و جارحیت کو بالواسطہ موقع دینے کی صورت تو ہو سکتی ہیں مگر کامیابی کی ضمانت نہیں۔

حقیقت تو یہ بھی کہ ایران امریکہ جنگ سے........

© Daily Urdu