menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kasb e Kamal Kun: Baba Sultan

28 0
23.06.2026

کسبِ کمال کُن: بابا سلطان

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

دیہات کے پرانے ویہڑوں میں بعض لوگ صرف انسان نہیں ہوتے، پورا عہد ہوتے ہیں۔ ان کی چال، ان کی آواز، ان کا طرزِ زندگی، ان کی خاموشیاں، حتیٰ کہ ان کے استعمال کی چیزیں بھی وقت گزرنے کے بعد ایک داستان بن جاتی ہیں۔ بابا سلطان بھی ایسی ہی ایک داستان تھے۔ بابا پھتہ کے سب سے چھوٹے اور تیسرے بیٹے۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس پورے خاندان میں اکثر لوگوں کے نام وقت کے ساتھ بدل گئے، کسی کا عرف پڑ گیا، کسی کا نام بگڑ کر مشہور ہوگیا، کسی کو محبت سے کسی اور نام سے پکارا جانے لگا، مگر بابا سلطان صرف بابا سلطان ہی رہے۔ نہ کوئی تخلص، نہ کوئی دوسرا نام۔ جیسے ان کی شخصیت میں ایک سادگی تھی ویسی ہی ان کے نام میں بھی تھی۔ لوگ انہیں سلطان، چاچا سلطان یا بابا سلطان کہہ کر پکارتے اور یہی نام ان کی پوری شناخت بن گیا۔ آواز ذرا اونچی تھی اور گفتگو میں ایک خاص قسم کی جلدی۔ بعض اوقات بات پوری طرح سمجھ نہ آتی اور ابلاغ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی، لیکن ان کی نیت، ان کا خلوص اور ان کی محنت اتنی واضح تھی کہ الفاظ کی کمی کبھی محسوس نہ ہوتی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو گفتگو سے زیادہ اپنے عمل سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہر وقت مصروف، ہر وقت کام میں جتے ہوئے، جیسے زندگی ان کے نزدیک رکنے کا نام ہی نہ ہو۔

ہم نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارا اور شاید زندگی کے چند بڑے سبق انہی سے سیکھے۔ انہوں نے کبھی بیٹھ کر نصیحتیں نہیں کیں، لیکن ان کی پوری زندگی ایک عملی درسگاہ تھی۔ محنت کیسے کی جاتی ہے، وقت کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے،........

© Daily Urdu (Blogs)