menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

12ربیع الاول ، محبتِ رسول ...

19 0
yesterday

دنیا کی تاریخ میں بے شمار دن طلوع ہوئے ، وقت کے سمندر میں اترے اور گزر گئے مگر کچھ نسبتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں صدیوں کا سفر بھی پرانا نہیں کر سکتا ربیع الاول کا ذکر آتے ہی مسلمان کے دل میں ایک ایسی ہستی کی یاد مہک اٹھتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا وہ ہستی جن کا نام محمد مصطفیٰؐ ہے؛ جن کی سیرت انسانیت کے لیے روشنی، جن کی تعلیم عدل و رحمت کا درس، اور جن کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔12ربیع الاول مسلمانوں کے ہاں بالخصوص حضور نبی اکرم ؐکی ولادتِ مبارکہ کی نسبت سے محبت ، عقیدت اور ذکرِ سیرت کا ایک نمایاں حوالہ ہے البتہ علمی و تاریخی دیانت کا تقاضا ہے کہ یہ بھی ذکر کیا جائے کہ تاریخِ ولادت کے تعین میں اہلِ مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ آپؐ کی ولادت ربیع الاول میں ہونے کا قول نہایت معروف ہے۔ اس اختلاف سے اس حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ رسول اللہ ؐ کی تشریف آوری تاریخِ انسانی کے عظیم ترین واقعات میں سے ہے۔قرآنِ مجید نے آپ ؐ کی بعثت کا مقصد چند ایسے الفاظ میں بیان فرمایا جو قیامت تک انسانیت کے لیے امید کا چراغ ہیں:(ترجمہ) ‘‘اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔’’ (سورۃ الانبیاء : 107) غور کیجیے، قرآن نے رحمت کو کسی ایک قوم، نسل، خطے یا زمانے تک محدود نہیں کیا بلکہ فرمایا۔ گویا محمد رسول اللہؐ کی رحمت کا دائرہ انسان سے انسان ، معاشرے سے معاشرے اور زمانے سے زمانے تک پھیلتا چلا جاتا ہے۔آپ ؐ اس وقت دنیا میں تشریف لائے جب عرب معاشرہ قبائلی عصبیت، انتقام، ظلم اور معاشرتی ناہمواریوں میں گھرا ہوا تھا۔ طاقت کو حق سمجھا جاتا تھا ، کمزور آسانی سے ظلم کا شکار ہو جاتا اور قبائلی تفاخر انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرتا تھا۔ پھر غارِ حرا سے صدا بلند ہوئی اور علم، توحید اور اخلاق کا وہ سفر شروع ہوا جس نے انسان کو اپنے رب سے بھی جوڑا اور انسان کو انسان کا حق پہچاننا بھی سکھایا۔ یہ........

© Nawa-i-Waqt