menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

کرائے پر دستیاب ریاستی ...

18 0
tuesday

انٹرنیٹ کا دور شروع ہونے کے تقریباََ دس برس بعد کینیڈا میں مقیم ایک محقق نے ہمارے دور کو مابعدِ صحافت کا زمانہ ثابت کیا۔ بے شمار مثالوں سے سمجھایا کہ دورِ حاضر کا قاری اور ناظر صحافی سے حقائق جاننا نہیں چاہتا۔ اس کے دل ودماغ میں اشرافیہ کے چند طاقتور گروہوں اور خصوصاََ نمایاں افراد کے خلاف شدید نفرت برسوں سے جمع ہورہی ہے ۔ قاری اور ناظرکی خواہش ہے کہ وہ جن طاقتور لوگوں سے نفرت کرتا ہے انہیں بدی کی بھرپور علامتیں ثابت کرنے کے ثبوت فراہم کئے جائیں۔ مختصر الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ صحافت کا آندرے میر نامی محقق کی دانست میں بنیادی فریضہ لوگوں کے دلوں میں پہلے سے موجود تعصبات کو توانا تر بنانا ہے ۔ انگریزی میں اس کے لئے Validationکا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔یہ لکھنے کے بعد یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے برسراقتدار رہنے کے سبب نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ سے پاکستان کے عوام کی کثیر تعداد ناخوش ہے ۔ ان کے دلوں میں موجود شکایات کو بھڑکانے کے لئے اقتدار میں باریاں لینے والے چوروں اور لٹیروں کی جگہ لینے کرکٹ کی وجہ سے کرشمہ ساز ہوئے عمران خان سیاسی اکھاڑے میں اترے ۔ برسوں تک عوامی پذیرائی سے محروم رہے ۔ اکتوبر 2011ئمیں لیکن ان کو مبینہ طورپر ریاست کے اہم ستونوں میں سے ایک کی سرپرستی فراہم ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ لاہور کے مینارِ پاکستان تلے منعقد ہوئے اجتماع کے بعد وہ اقتدار سنبھالنے کی راہ پر چل نکلے ۔ منزل دوگام رہ گئی تو 2016ئمیں پانامہ ہوگیا۔ ریاست کا ایک اور ستون -عدلیہ- بھی اس کی وجہ سے متحرک ہوگیا۔ میڈیا بھی کرپشن کے خلاف آزاد عدلیہ کی حمایت میں ڈٹ کرکھڑا ہوگیا۔ پانامہ دستاویزات کی ازخود........

© Nawa-i-Waqt