تحریک انصاف تصادم سے مفاہمت کی طرف مائل ،کیا کانفرنس واقعی نتیجہ خیزہو گی؟
دھرنوں اور جلسوں کے ایک طویل سلسلے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے ایک مرتبہ پھراحتجاج اور دباؤ میں توقف لا کر سیاسی مفاہمت کا اشارہ سیاسی تقطیب کی فضا میں امید کی ایک موہوم کرن ہے کیونکہ مشاہدہ رہا ہے کہ تحریک انصاف کے ٹریک بدلنے کا دورانیہ بہت مختصر اور عارضی ہوتا ہے اور بالاخر دھرنوں اور احتجاج جلسہ جلوس کے مرغوب راستے پرجماعت کی جلد واپسی ہوتی ہے ۔
اس کی اصل وجہ جماعت کے قائدین کا فیصلہ نہیں بلکہ بانی کی طرف سے آنے والی ہدایات ہوتی ہیں جن کی روز اول سے کوشش سیاسی قائدین اورحکومت کی بجائے بقول اس کے طاقت ور اور با اختیار لوگوں سے مذاکرات ہے مگر ہر بار دوسری جانب سے سیاسی راہداری استعمال کرنے کا مشورہ ملامگراصرار برقرار رہا اور ایک جانب مذاکرات ومفاہمت اور معاملات طے کرنے کی خواہش تودوسری جانب انہی سے کشیدگی یہاں تک کہ کسی تعلیمی ادارے کی تقریب میں ان کے ہوتے ہوئے شرکت کو غداری اور شرکت کرنیوالوں کو غدار ت ٹھہرایا گیا ۔
صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پردھواں دھار پریس کانفرنس میں جو حتمی اور قطعی پیغام ملا اور اس کے ساتھ ساتھ پابندی و گورنر راج........
