menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

یکم مئی 1886 شکاگو کے شہیدوں کو سرخ سلام

28 0
26.04.2026

آج سے ٹھیک 140 سال قبل سامراجی ملک امریکا کے صنعتی شہر شکاگو میں محنت کشوں نے جو قربانی دی تھی آج وہاں امریکی سامراج، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین غزہ کے بعد ایران سے جنگ چھیڑ رکھی ہے جب تک یکم مئی 2026 آئے تو شاید یہ جنگ ختم ہو یا پھر؟

خیر ہم یوم مئی کے موقع پر شکاگو 1886 کے محنت کشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی یاد کو تازہ دم کرنے کے لیے ان کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر شاید کچھ حاصل کر سکیں جنھوں نے کہا تھا کہ حاکموں غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو، نہیں تو پھر ان کی تلواریں بلند ہوں گی۔

یکم مئی یا پھر یوم مئی دنیا بھر کے محنت کشوں کا عالمی دن یا پھر عالمی تہوار ہے اس دن کو دنیا بھر کے محنت کش عوام 1886 شکاگو کے ان شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دنیا بھر میں جلسے جلوس ریلیاں اور سیمینار منعقد کر کے مناتے ہیں جنھوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر 8 گھنٹے اوقات کار مقرر کروائے تھے۔

مظلوموں محنت کشوں محکوموں اور غلاموں کی یوں تو بڑی طویل اور صبر آزما جد و جہد کی داستان صدیوں پر محیط ہے جب سے دنیا تشکیل پائی ہے یہ کشمکش جاری ہے اور جب پہلی مرتبہ زمین پر چند طاقتور لوگوں نے لکیریں کھینچ کر اپنے حق ملکیت کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا تھا اور کمزور لوگوں پر ظلم کر کے طاقت کے زور پر انھیں اپنا غلام بنالیا تب ہی سے دنیا میں طبقاتی فرق پیدا ہو گیا تھا۔

اس وقت طاقتور لوگ جبر کر کے غلاموں، مظلوموں، محکوموں اور محنت کشوں سے جبری مشقت لیتے تھے اوقات کا تعین بھی نہ تھا لیکن 18 اٹھارویں اور 19 صدی میں تقریباً مزدور طبقہ بھی منظم ہونا شروع ہو گیا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب صنعتی ترقی ہو رہی تھی بھاپ سے چلنے والے انجن اور کار خانے مشینی دور میں داخل ہو رہے تھے بڑے کم معاوضے پر مزدوروں سے بیگار لی جاتی تھی۔

کارل مارکس کے نظریات بھی پھیل رہے تھے۔محنت کشوں کے کوئی اوقات کار نہ تھے نہ ہی کوئی قانون تھا رات گئے تک کام کرنا پڑتا تھا حادثے اور موت کی........

© Express News