27 ستمبر کا مارچ: احتجاج کا حق یا ایک خطرناک آزمائش؟
پاکستان ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اس مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسے اپنے بانی عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور سیاسی حقوق کے لیے ایک فیصلہ کن احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔
احتجاج، اختلافِ رائے اور سیاسی جدوجہد جمہوریت کا حصہ ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت اور شہری کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سیاسی مقصد کے حصول کے لیے سڑکوں پر ایسا تصادم ضروری ہے جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہ رہیں؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے بھی ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو اپنے مطالبات کے حق میں قانونی اور آئینی راستے دستیاب ہیں تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عدالتوں، پارلیمنٹ اور دیگر آئینی اداروں کے ساتھ ساتھ سڑک کو فیصلہ کن میدان کیوں بنایا جا رہا ہے؟
اگر پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں یا عمران خان کے ساتھ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے تو سب سے مضبوط راستہ یہی ہونا چاہیے کہ ان معاملات کو عدالتوں میں پوری قوت کے ساتھ لڑا جائے، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جائے اور آئینی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ تو پھر سوال یہی ہے کہ اگر عدالت ایک راستہ فراہم کر رہی ہے تو اسلام آباد کی سڑک کو آخری اور فیصلہ کن راستہ بنانا کیوں ضروری ہے؟
27 ستمبر کا مارچ صرف پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان سیاسی مقابلہ نہیں ہوگا، اس کے اثرات عام شہریوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسلام آباد ملک کا دارالحکومت ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ........
