Ikhlaqi Pasti
سیرت النّبیﷺ کی مستند کتابوں میں پڑھ چکا ہوں کہ ایک بار کسی جہاد سے واپس آنے والے چند صحابہ کرام راستے میں کھڑے ہو کر ہلکی پھلکی گفتگو کررہے تھے یا اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کررہے تھے، کہ ان کے کھڑے ہونے سے رستے میں رکاوٹ آگئی جو آنے جانے والوں کے لئے پریشانی کا موجب بن گئی۔ نبی کریمﷺ نے خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تو راستہ بند کرنے کے عمل کو اتنا ناپسند فرمایا کہ حضورﷺ ان صحابہ کے پاس سے گزرے مگر ان سے نہ سلام لیا اور نہ کلام کیا۔
چند روز پہلے سوشل میڈیا پر جماعتِ اسلامی کا اشتہار نظر آیا، جس میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان کے لئے دل سے دعا نکلی کہ چلیں ایک پارٹی نے عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو بہت اچھی بات ہے، ممکن ہے یہ احتجاج نتیجہ خیز ثابت ہو اور اس کے نتیجے میں بے حس حکمران پٹرولیم مصنوعات پر بلاوجہ اور غیر ضروری ٹیکس ختم کردیں اور پٹرول کی قیمت نیچے آجائے۔ ماضی میں وہ سیاستدان بھی پٹرول کی قیمت بڑھنے پر احتجاج کیا کرتے تھے جو اِس وقت اقتدار میں ہیں اور خود آئے دن قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔
میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ اشتہار کی ایک سائیڈ پر لکھے ہوئے چند اور الفاظ پر بھی نظر پڑگئی، جہاں واضح طور پر لکھا ہوا تھا کہ سات تاریخ کو احتجاج ہوگا جس میں تمام سڑکیں بند کی جائیں گی۔ یہ پڑھ کر مجھے تشویش ہوئی، سڑکیں بند کرنے کے نتائج ذہن میں گھومنے لگے، کچھ واقعات جن کا میں عینی شاہد ہوں، وہ بھی یاد آگئے کہ ماضی میں ایک کالعدم جماعت نے جب دھرنوں سے سڑکیں بند کی تھیں تو ایک لیڈی لیکچرر آٹھ سالہ بیمار بیٹی کے ساتھ رستہ نہ ملنے کی وجہ سے چار گھنٹے ٹریفک میں پھنسی رہی اور ڈاکٹر کے پاس نہ پہنچ........
