Tum Apne Mustaqbil Ko Khud Likhte Ho
تم اپنے مستقبل کو خود لکھتے ہو
ایک ہی واقعہ پر دو مختلف ردعمل ہوسکتے ہیں۔ دو منفرد لوگ، دو بالکل الٹے ردِعمل دیں گے۔ یہی زندگی کا حسن ہے۔ ہر واقعے پر تمہارا ردعمل تمہاری ذات مزید عیاں کرے گا۔ اگر ایک طالب علم امتحان میں کم نمبر لائے تو وہ کہتا ہے۔ "اس بار تیاری کم تھی، اگلی بار بہتر کروں گا"۔ یہ زندگی کے معاملات کو دیکھنے کی اس کی اپنی اپروچ ہے۔ جب کہ دوسرا کہتا ہے "میں ہمیشہ سے نکما تھا، مجھ سے کبھی کچھ نہیں ہوگا"۔ یہ دوسری اپروچ ہے۔ ہماری حدیں، ہماری خامیاں سب اسی دوسری سوچ سے وابستہ ہیں۔ ہم عموماََ اسے "مثبت اور منفی سوچ" کہہ کر گزر جاتے ہیں مگر نفسیات کہتی ہے کہ یہ صرف سوچ کا فرق نہیں، یہ اس بات کی پیش گوئی ہے کہ آگے چل کر کون ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوگا۔ کون زندگی میں اچھا پرفارم کرے گا۔
ساٹھ کی دہائی کے آخر میں امریکی ماہرِ نفسیات........
