Mobile Phone: Aik Khamosh Waba
موبائل فون: ایک خاموش وباء
آپ کے دماغ میں ایک کیمیائی مادہ ہے جس کا نام ڈوپامین ہے۔ یہ وہ کیمیکل ہے جو آپ کو کسی کام کی تکمیل پر خوشی کا احساس دلاتا ہے جب آپ کوئی مشکل مسئلہ حل کرتے ہیں، جب آپ ورزش کرتے ہیں، جب آپ اپنے بچے کو مسکراتا دیکھتے ہیں۔ یہ قدرت کا انعامی نظام ہے جو ارتقاء نے لاکھوں سال میں بنایا۔
لیکن سلیکون ویلی کے انجینئرز نے اس نظام کو ہائی جیک کر لیا۔ سابق گوگل ڈیزائنر ٹرسٹن ہیرس نے واضح طور پر بتایا کہ "سوشل میڈیا ایپس جان بوجھ کر ڈوپامین سائیکل کو استعمال کرتی ہیں تاکہ صارف بار بار واپس آئے۔ ہر نوٹیفیکیشن، ہر لائیک، ہر نیا میسج یہ سب اتفاقی نہیں ہیں۔ یہ ایک سوچے سمجھے ڈیزائن کا نتیجہ ہیں"۔ سائنسدان اسے "ویری ایبل ریوارڈ سسٹم" کہتے ہیں بالکل ویسے جیسے جوئے کی مشین کام کرتی ہے۔ آپ کو نہیں معلوم اگلا انعام کب ملے گا، لیکن انعام کی امید میں آپ بار بار اسکرین کھولتے ہیں۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر اینا لیمکے نے اپنی تحقیق میں واضح کیا کہ ڈوپامین کا یہ مصنوعی سیلاب دماغ کے قدرتی توازن کو تباہ کر دیتا ہے۔ جو دماغ پہلے سادہ خوشیوں سے مطمئن ہو جاتا تھا دوست سے ملنا، کتاب پڑھنا، چائے کی پیالی وہ اب اتنے ڈوپامین پر مطمئن نہیں ہوتا۔ اسے زیادہ چاہیے اور زیادہ اور مزید زیادہ۔ یہ نشے کا کلاسیکی نمونہ ہے اور اس نشے کی جڑیں آپکی ہتھیلی پر ہیں۔
آج سے صرف تیس سال پہلے دنیا میں کسی کے پاس اسمارٹ فون نہیں تھا۔ انسان لاکھوں سال بغیر اس آلے کے رہا شکار کیا، تہذیبیں بنائیں، چاند پر قدم رکھا، موسیقی تخلیق کی سب کچھ بغیر اس چمکتی ہوئی اسکرین کے۔ لیکن آج اگر کسی سے اس کا فون دس منٹ کے لیے لے لیا جائے تو اس کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔ یہ محض عادت نہیں یہ انحصار ہے اور انحصار بیماری کی پہلی سیڑھی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے چار ارب لوگ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے اوسط صارف دن میں تقریباً سات گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتا ہے۔ یعنی ایک انسان اپنی بیداری کی زندگی کا تقریباً نصف حصہ ایک مشین کو گھورتے ہوئے گزارتا ہے۔ ڈیزمنڈ مورس اگر آج "دی نیکڈ ایپ" لکھتے تو شاید اس کا نام "دی وائرڈ ایپ" رکھتے وہ بندر جو تاروں میں الجھ گیا۔
پاکستان میں صورتحال اور بھی عجیب ہے۔ ملک میں موبائل صارفین کی تعداد بیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن ذہنی صحت کے ڈاکٹروں کی تعداد؟ پانچ سو سے بھی کم۔ ہم نے فون تو سب کے ہاتھ میں دے دیا، مگر اس فون نے ذہن کا جو حال کیا، اس کا علاج کرنے والا کوئی نہیں۔
ہمارے ہاں ایک عجیب تضاد ہے۔ اگر کوئی نوجوان سگریٹ پیتا دکھائی دے تو پریشانی ہوتی ہے لیکن اگر وہی نوجوان چھ گھنٹے فون میں غرق ہے تو کوئی فکر نہیں۔ ہم نے ڈیجیٹل نشے کو نشہ ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے اور جب اس نشے کے نتائج سامنے آتے ہیں بے چینی، نیند کی خرابی، ارتکاز کی کمی، غصے کے بے قابو دورے تو ہم کہتے ہیں: اسے نظر لگ گئی ہے، جنات کا سایہ ہے، دم کروا لو۔ یہ رویوں کے مسائل بہت حدتک موبائل کے اندھا دھند استعمال سے جنم لیتے ہیں۔
ہم انسان حقیقت سے اتنا نہیں ڈرتےجتنا حقیقت بدلنے سے ڈرتے ہیں۔ یہ ماننا کہ فون نقصان دہ ہو سکتا ہے اس کا مطلب ہے اپنی عادات بدلنا، بچوں سے فون چھیننا، خود بھی اسکرین سے دور ہونا اور تبدیلی مشکل ہے۔ اس لیے ہم جادو ٹونے کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں کیونکہ اس میں ہمیں خود کچھ بدلنا نہیں پڑتا۔
لیکن سائنس خاموش نہیں رہتی۔ تحقیق پر تحقیق ثابت کر رہی ہے کہ موبائل فون کا بے دریغ استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن، اضطراب، توجہ کی کمی اور خودکشی کے خیالات سے جڑا ہوا ہے۔ جوناتھن ہائیٹ، نیویارک یونیورسٹی کے سماجی ماہر نفسیات، نے اپنی تحقیق میں واضح کیا کہ 2012 کے بعد یعنی جب اسمارٹ فون عام ہوا نوجوانوں میں ذہنی امراض کی شرح میں تیزی سے اضافہ شروع ہوا۔ یہ محض اتفاق نہیں یہ ایک نمونہ ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے۔
انسان ہمیشہ سے اپنا موازنہ دوسروں سے کرتا رہا ہے ارتقائی نفسیات میں اسے "سوشل کمپیرژن تھیوری" کہتے ہیں جسے ماہر نفسیات لیون فیسٹنگر نے 1954 میں پیش کیا۔ لیکن فرق یہ ہے کہ پہلے انسان اپنا موازنہ اپنے گاؤں، اپنے محلے، اپنے دس بیس جاننے والوں سے کرتا تھا۔ اب وہ اپنا موازنہ پوری دنیا کے سب سے خوبصورت، سب سے امیر، سب سے کامیاب لوگوں سے کرتا ہے اور یہ موازنہ ہر وقت، ہر لمحے، ہتھیلی پر موجود ہے۔
اس موازنے کی وجہ سے انسان حقیقی دنیا میں نہیں، بلکہ اپنے ذہن میں بنائی گئی کہانیوں میں رہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ان کہانیوں کو بڑھاوا دیا ہے۔ انسٹاگرام پر ہر زندگی خوبصورت دکھتی ہے، ہر شادی رومانوی، ہر سفر دلکش۔ لیکن یہ کہانیاں جھوٹی ہیں یہ فلٹرز سے سجی ہوئی نقلی تصویریں ہیں اور جب ایک نوجوان ان نقلی تصویروں کا موازنہ اپنی حقیقی زندگی سے کرتا ہے، تو نتیجہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے: میں کافی نہیں ہوں۔
رائل سوسائٹی فار پبلک ہیلتھ کی ایک بڑی تحقیق نے انسٹاگرام کو نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے سب سے نقصان دہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم قرار دیا۔ اس تحقیق کے مطابق انسٹاگرام کے باقاعدہ استعمال سے نوجوانوں میں احساس کمتری، جسمانی شبیہ سے عدم اطمینان اور نیند کے مسائل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان میں جہاں پہلے ہی لڑکیوں پر رنگ، وزن اور شکل و صورت کا معاشرتی دباؤ ہے، وہاں سوشل میڈیا نے اس دباؤ کو سو گنا بڑھا دیا ہے۔ اب لاہور کی ایک سولہ سالہ لڑکی اپنا موازنہ ہالی ووڈ کی اداکاراؤں سے کر رہی ہے اور یہ موازنہ اسے توڑ رہا ہے۔
دوسری طرف یہ ہماری جسمانی صحت کو مسلسل بگاڑ رہا ہے۔ نیند محض آرام نہیں نیند دماغ کی صفائی کا وقت ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ نیند کے دوران دماغ کا "گلیمفیٹک سسٹم" زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے بالکل ویسے جیسے شہر کی سڑکیں رات کو دھوئی جاتی ہیں۔ جب نیند خراب ہوتی ہے تو یہ صفائی نہیں ہو پاتی اور دماغ میں وہی زہریلے مادے جمع ہوتے رہتے ہیں جو ڈپریشن اور بے چینی کا سبب بنتے ہیں۔
موبائل فون نیند کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس کی وجہ صرف "دیر تک جاگنا" نہیں۔ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی دماغ میں میلاٹونن ہارمون کی پیداوار کو دبا دیتی ہے۔ میلاٹونن وہ ہارمون ہے جو جسم کو بتاتا ہے کہ اب سونے کا وقت ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق کے مطابق سونے سے پہلے صرف دو گھنٹے اسکرین دیکھنے سے میلاٹونن کی پیداوار میں بائیس فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فون ہاتھ میں لے کر بستر پر جانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی نیند کی گولی کے بجائے کافی پی کر سونے کی کوشش کرے۔
پاکستان میں نیند کا بحران خاص طور پر نوجوانوں میں سنگین ہے۔ یونیورسٹیوں کے سروے بتاتے ہیں کہ اکثریت رات دو بجے کے بعد سوتی ہے اور اس تاخیر کا سب سے بڑا سبب موبائل فون ہے۔ نیند کی کمی صرف تھکاوٹ نہیں لاتی یہ یادداشت کمزور کرتی ہے، مزاج خراب کرتی ہے، قوت فیصلہ گھٹاتی ہے اور مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے۔ ایک نسل آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلی ہو رہی ہے اور ہم اسے "ٹیکنالوجی کی ترقی" کہہ رہے ہیں۔
ذرا رات کے دس بجے کسی بھی پاکستانی گھرانے کا منظرتصور کریں۔ ایک عام منظر یہ ہوگا: باپ ایک کونے میں فون پر خبریں دیکھ رہا ہے، ماں دوسرے کونے میں ڈرامے کی کلپس دیکھ رہی ہے، بیٹا اپنے کمرے میں گیمز کھیل رہا ہے، بیٹی ٹک ٹاک سکرول کر رہی ہے۔ سب ایک ہی چھت تلے ہیں لیکن کوئی ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہا۔ ہر شخص اپنی اپنی ڈیجیٹل دنیا میں گم ہے۔ جسمانی طور پر ساتھ، ذہنی طور پر ہزاروں میل دور۔
ڈیزمنڈ مورس نے لکھا تھا کہ انسانی بچے کو جسمانی قربت، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا اور جذباتی ردعمل یہ تینوں چیزیں صحت مند نشوونما کے لیے اتنی ہی ضروری ہیں جتنا کھانا اور پانی۔ جب والدین کا چہرہ اسکرین میں دفن ہوتا ہے، تو بچے کو وہ جذباتی غذا نہیں ملتی جس کی اسے ضرورت ہے۔ یہ بھوک نظر نہیں آتی، مگر اس کے نتائج سالوں بعد نفسیاتی مسائل کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔
شیری ٹرکل، ایم آئی ٹی کی مشہور ماہر نفسیات، نے اس المیے کو ایک جملے میں بیان کیا: ہم ایک ساتھ ہیں مگر اکیلے۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ جو بچے کھانے کی میز پر والدین کو فون استعمال کرتے دیکھتے ہیں، وہ خود کو غیر اہم محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ان کے ذہن میں ایک سادہ مگر تباہ کن پیغام نقش ہو جاتا ہے: فون مجھ سے زیادہ اہم ہے۔
آئزک ایسیموف نے ایک بار لکھا تھا کہ سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان جاہل ہو بلکہ یہ کہ وہ اپنی جہالت پر فخر کرے۔ ہم اپنے فون کے نشے پر فخر کرتے ہیں "میں رات تین بجے تک جاگتا ہوں" ایسے بولا جاتا ہے جیسے کوئی کارنامہ ہو۔ موبائل کے نقصانات سے بچنے کا پہلا قدم یہ اعتراف ہے کہ مسئلہ موجود ہے۔
اس مسئلے کےحل کے لیے ہمیں تین سطحوں پر کام کرنا ہوگا: فرد، خاندان اور معاشرہ۔ انفرادی سطح پر ڈیجیٹل حفظان صحت کے سادہ اصول فرق ڈال سکتے ہیں: سونے سے ایک گھنٹا پہلے فون بند کریں، نوٹیفیکیشنز کم سے کم رکھیں، دن میں کم از کم دو گھنٹے اسکرین سے مکمل دور رہیں اور سوشل میڈیا پر گزارے وقت کا حساب رکھیں۔ خاندانی سطح پر سب سے اہم قدم یہ ہے کہ کھانے کی میز اور سونے کا کمرہ فون سے پاک رکھا جائے یہ دو مقامات وہ ہیں جہاں رشتے بنتے اور بگڑتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر پاکستان کو ڈیجیٹل صحت کے بارے میں قومی بیداری مہم کی ضرورت ہے۔ اسکولوں میں "ڈیجیٹل ویل بیئنگ" کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ والدین کو سکھانا چاہیے کہ بچے کے ہاتھ میں فون دینا ذمہ داری ہے بالکل ویسے جیسے گاڑی کی چابی دینا ذمہ داری ہے اور حکومت کو ٹیکنالوجی کمپنیوں سے جوابدہی طلب کرنی چاہیے کیونکہ جب ایک صنعت جان بوجھ کر نشے کا نظام بناتی ہے تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نقصان کا ازالہ بھی کرے۔
موبائل فون بذات خود برا نہیں ہے جیسے آگ بذات خود بری نہیں۔ آگ کھانا بھی پکاتی ہے اور گھر بھی جلاتی ہے۔ فرق استعمال کرنے والے کے شعور کا ہے۔ مسئلہ فون نہیں مسئلہ یہ ہے کہ فون نے ہم پر حکومت شروع کر دی ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔
جو جانور اپنے ماحول کو کنٹرول نہیں کر سکتا، وہ اپنے ماحول کا غلام بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ہم اس آلے کے مالک ہیں یا غلام۔ بس اتنا کیجیے کہ آج رات سونے سے پہلے فون بند کر دیجیے، اپنے بچے کے پاس بیٹھیے، اس کی آنکھوں میں دیکھیے اور اس سے پوچھیے: آج تمہارا دن کیسا تھا؟ یقین مانیے اس ایک سوال کی شفا کوئی اسکرین نہیں دے سکتی۔
