Baghair Qasoor Ke Koi Saza Nahi
انسانی زندگی کا ایک مستقل مسئلہ یہ ہے کہ دکھ یا تکلیف کو کیسے سمجھا جائے۔۔ کسی انسان کو دکھ تکلیف میں دیکھ کر پہلا سوال ہمیشہ یہی ہوتا ہے، یہ کیوں ہوا؟ یہ انسان جبلت کا تجسس ہے جو وجہ یا سبب کریدنا چاہتا ہے۔ مگر اس کرید یا تجسس کو زیادہ دیر زندہ نہیں رہنے دیا جاتا۔ ہم فوراً کوئی جواب گھڑ لیتے ہیں، کبھی تقدیر کے کھاتے میں، کبھی مکافاتِ عمل، کبھی کسی پوشیدہ جرم یا خطا کا حوالہ، یا پھر نسب اور نسل کے کیے کا نتیجہ۔
اگر ہر مصیبت کو کسی سابقہ عمل کی سزا مان لیا جائے، تو پھر ظلم اور ناانصافی کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ جو کچھ ہو رہا........
