menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kahani Ka Sach

31 0
06.03.2026

"زندگی ایک اسٹیج ہے اور ہم سب کردار ہیں"۔ یہ جملہ صدیوں پہلے شیکسپئیر نے کہا تھا مگر یہ ہر عہد میں نیا لگتا ہے۔ اگر انسان ذرا ٹھہر کر اپنی زندگی پر نظر ڈالے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ناول کے اندر سانس لے رہا ہے جہاں خوشی بھی ہے، دکھ بھی، ملاپ بھی ہے، جدائی بھی، جشن سی گہماگہمی بھی ہے اور موت کی خاموشی بھی۔

ہر صبح ایک نیا باب کھلتا ہے اور ہر شام کہانی نیا موڑ لے لیتی ہے۔ کچھ لوگ ان موڑوں کو لفظوں میں قید کر لیتے ہیں، کتابوں اور سوانح کی صورت امر ہو جاتے ہیں اور اکثریت؟ وہ روزگار، آسودگی یا محرومی کی دوڑ میں اس طرح گم ہو جاتی ہے کہ اپنی ہی کہانی کو پڑھنے کی فرصت نہیں پاتی۔ حالانکہ زندگی سب پر یکساں کہانی بن کر گزرتی ہے۔ ہر شخص اپنا کردار ادا کرکے اسٹیج سے اتر جاتا ہے۔ پردہ گر جاتا ہے۔ تماشائی بکھر جاتے ہیں۔ ایک لکھاری اور قاری میں یہی فرق ہوتا ہے۔ لکھنے والا اپنی بات کہنے کا........

© Daily Urdu