School Meal Program, Aik Nasal Ki Umeed
سکول میل پروگرام، ایک نسل کی امید
کبھی کبھی بڑے مسئلے کا حل بہت چھوٹی سی چیز میں چھپا ہوتا ہے۔ ایک دودھ کا پیکٹ بھی ایسی ہی ایک چھوٹی سی چیز ہے۔ بظاہر چند روپے کا پیکٹ، چند بسکٹ اور ایک سکول کا بچہ۔ لیکن اگر اس منظر کو جنوبی پنجاب کے کسی دور افتادہ گاؤں کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اس کی اہمیت کا اندازہ کچھ مختلف ہوتا ہے۔
صبح کا وقت ہے۔ ایک بچہ اپنے چھوٹے سے گھر سے بستہ اٹھاتا ہے اور سکول کی طرف چل پڑتا ہے۔ بستے میں شاید دو تین کتابیں ہوں، ایک آدھی ٹوٹی ہوئی پنسل اور پرانی سی کاپی۔ مگر پیٹ میں ناشتہ نہیں ہوتا۔ ماں نے صبح چائے کے ساتھ کچھ کھلانے کی کوشش کی ہوگی، مگر گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے۔ باپ دیہاڑی پر گیا ہے یا کھیت میں کام کر رہا ہے۔ بچے کے لیے سکول جانا معمول ہے، لیکن اس کے جسم کے لیے یہ ایک امتحان ہے۔
کلاس میں استاد سبق پڑھاتا ہے۔ کتاب کھلی ہے، آنکھیں کتاب پر ہیں، مگر ذہن کہیں اور ہے۔ بھوک، کمزوری اور تھکن اس کی توجہ کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں۔
یہی وہ منظر ہے جہاں پنجاب کے سکول میل پروگرام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف دودھ اور بسکٹ تقسیم کرنے کا منصوبہ نہیں۔ اگر اسے درست نیت، شفافیت اور مسلسل نگرانی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ جنوبی پنجاب کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں ریاست کے رویے میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں بچوں کی غذائی صورتحال کوئی معمولی مسئلہ نہیں۔ یونیسف کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ بچے قد کی نشوونما رک جانے یعنی stunting کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2026 کی تازہ معلومات کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں میں stunting کی شرح تقریباً چالیس فیصد ہے، جبکہ کمزوری یعنی wasting بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔
غذائی کمی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ بچے کو دو وقت کا کھانا نہیں ملتا۔ کبھی بچہ کھانا کھا رہا ہوتا ہے، مگر اس کی خوراک میں وہ ضروری غذائی اجزا موجود نہیں ہوتے جو جسم، دماغ اور نشوونما کے لیے درکار ہیں اور جب غذائی کمی بچے کے ابتدائی سالوں کو متاثر کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف آج تک محدود نہیں رہتے۔ یہ اس کے تعلیمی سفر، صحت، ذہنی صلاحیت اور مستقبل کی معاشی استعداد تک پہنچتے ہیں۔
اسی لیے دنیا بھر میں اب بچوں کی تعلیم کو غذائیت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاتا۔ بھوکا بچہ صرف بھوکا نہیں ہوتا، وہ سیکھنے کے ایک موقع سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
جنوبی پنجاب کو میں نے محض نقشے پر نہیں دیکھا۔ اس خطے کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں کام کرنے اور گھومنے پھرنے کے دوران بارہا یہ محسوس کیا ہے کہ یہاں کے عام آدمی کی زندگی کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ غربت ہے تو صحت متاثر ہوتی ہے۔ صحت........
