Umar Ke Parao
گزرتی عمر کا ہر حصہ آدمی کو تخیل میں خود پر غور کرنے کے لیے ٹھیک انہی عادات اور ہو بہو اسی عمر کے عمومی مزاج کے عین مطابق کریکٹر میں ڈھالتا رہتا ہے۔
یہ لائن دوبارہ پڑھیں اور سوچیں۔
تیس سال کی عمر میں انیس سال کی عمر والی شرٹس پسند کیوں نہیں کر رہے؟ یا انیس سال کی عمر والا پینتیس سال کی عمر کو پہنچے شخص کو پسند آنے والے جوتے کیوں نہیں خرید کر پہن رہا؟ مزاج، سوسائٹی، سرکل، روزگار اور اپنی ہی جسمانی ساخت، پسند اور ناپسند کے فیصلے عمر کے کئی پڑاؤ میں مسلسل تبدیل کرواتی رہتی ہے۔
کسی عمر میں آدمی کسی کہانی کو پڑھتے ہوئے اس کا ہیرو ہوتا ہے اور اسی کہانی کو بیس سال بعد پڑھتے ہوئے عمر کے دوسرے یا تیسرے پڑاؤ میں وہ کہانی میں ہیرو کے والدین میں اپنا مزاج........
