menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kamal Ki Kahani

46 0
12.08.2026

ایک رات چھوٹے سے کمرے میں سگریٹ کے دھویں کے درمیان پہلی بار ایک کلاس فیلو نے مجھے کمال سے متعارف کروایا۔ وزن یہی کوئی ساٹھ کلو کے آس پاس، قد چھ فٹ سے ذرا سا کم، سر کے بال چہرے کے حساب سے کہیں لمبے۔ گندمی رنگ کا کمال اس دن کالی ٹی شرٹ میں تھا۔ اس نے کہا، "میرا نام کمال ہے اور میں ملتان سے ہوں، پچھلے بارہ سال سے جرمنی میں رہ رہا ہوں"۔ پہلی ملاقات میں نہ اس نے مجھے متاثر کرنے کی کوشش کی، نہ میں نے متاثر کروانے کے لیے کوئی گہری بات کی۔ رات گزر گئی، نمبر بھی واٹس ایپ میں سیو ہوگئے۔

یاد نہیں پڑتا پھر کیسے دوسری ملاقات ہوئی، شاید بیچ میں ایک تیسرے دوست کا کمرہ تھا جہاں کھانے پر ہم ساتھ تھے۔ رات گہری ہوئی اور باتیں باسی ہونے لگیں تو باہر کی ہوا لینے نکل پڑے۔ خالی سڑک پر ہلکی سی ہوا کانوں کو چھونے لگی تو کمال نے اچانک گنگنانا شروع کیا۔ نجانے کون سا گانا تھا۔ مگر وہ برابر سُر میں تھا۔ ساتھ میں ہولے سے میں نے بھی سُر دینا شروع کیا۔ پھر ایک میش آپ سا چل نکلا۔ کہیں عاطف اسلم کے گانے کا تھوڑا سا ٹکڑا، کشور کمار کے گانے سے ملا دیتا اور جہاں لیرکس بھولنے لگتا تو لمبی تان بھرنے لگتا۔ ہم گاتے ہوئے ہاسٹل پہنچے، وہ اپنے میں، میں اپنے میں۔ پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، بغیر تیسرے دوست کی حاجت کے۔

کمال چکن، مٹن بریانی سب بناتا۔ وہ پیاز کے بغیر چکن کو کھلے ہاتھ سے ڈالے ٹماٹروں میں بھونتا، چمچ کے بغیر لاپرواہی سے مصالحے ڈالتا اور ذائقہ بکھیر دیتا۔ وہ صفائی کا خاص خیال نہ رکھتا، صرف کپڑوں کی تہیں ٹھیک سے لگا کر الماری میں رکھتا، باقی کمرہ درہم برہم رہتا۔ کمال ویڈ پیتا، نصرت سنتا، شاہ رخ کی فلمیں دیکھتا اور راک اسٹار، مووی میں رنبیر کے کردار جے جے میں خود کو جھانکتا۔ اسے بیئر کی مہک پسند نہیں تھی، وائن میں ذائقے کی بجائے الکوحل پرسنٹیج پر فوکس کرتا اور پڑھائی میں نہایت نکما تھا۔ وہ چار سال سے ایک ہی ڈگری کے کئی سبجیکٹ فیل کرکے ریپیٹ پیپر کے ٹریک پر چل رہا تھا۔

کمال کی سب سے بری عادت عین جوبن پہ آئی محفل میں خدا کا بے وقت ڈر تھا۔ الکوحل پیتے ہوئے، پینے کے بعد نشے میں، ہینگ اوور میں وہ کہتا کہ بس یہ آخری دفعہ ہے، اس کے بعد پڑھائی پر توجہ دینی ہے، لائبریری جانا ہے اور اللہ سے لو لگانی ہے۔ ہر ویک اینڈ یہی سائیکل دہراتا۔ جام، خوف اور پشیمانی کمال کے ساتھ اٹھکیلیاں بھرتے۔

کمال کا زندگی میں کوئی مقصد، کوئی مشغلہ نہیں تھا۔ وہ بس گانا گاتا اور گانے میں بھی صرف کلاسیکل۔ وہ شرمیلا تھا مگر مخالف جنس کی طلب کا شدید بھوکا۔ اس کی کبھی کوئی گرل........

© Daily Urdu