20 Lakh Ka Kafan
لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں پیش آنے والا قیامت خیز سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا قومی المیہ ہے جس نے پورے پاکستان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ہر حساس آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ ایک نجی گھر کے کچے پکے آنگن میں قائم معصوم کلیوں کے اس ٹویشن سینٹر کی چھت کیا گری گویا ان غریب اور بے بس والدین کی پوری کائنات ہی اجڑ گئی جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو غربت کے اندھیروں سے نکالنے اور تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کے لیے وہاں بھیجتے تھے۔ اس افسوس ناک واقع میں پندره معصوم بچے زندگی کی بازی ہار کر ہمیشہ کے لیے منوں مٹی تلے جا سوئے جبکہ پانچ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہسپتال کے بستروں پر زخموں سے چور پڑے ہیں۔ وہ معصوم فرشتے جو چند لمحے پہلے ہاتھوں میں قلم کتابیں تھامے اپنے روشن مستقبل کے خواب بن رہے تھے اچانک موت کے مہیب سائے تلے دب گئے اور ان کی معصوم ہنسی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
کسی ماں کا اکلوتا سہارا چھن گیا تو کسی محنت کش باپ کی آنکھوں کا نور اندھیروں میں گم ہوگیا۔ بلاشبہ اولاد کا جنازہ اٹھانا اس کائنات کا سب سے بھاری اور کٹھن امتحان ہے جس کے غم کی تپش میں والدین کے دل پگھل کر رہ جاتے ہیں اس لرزہ خیز حادثے نے پورے ملک کی فضا کو سوگوار کر دیا ہے اور ہر دل ان دکھی خاندانوں کے کرب میں برابر کا شریک ہے۔ اللہ رب العزت ان پندرہ معصوم شہید بچوں کو جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین باغات میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو اس ناقابل تلافی نقصان پر صبر جمیل اور حوصلہ بخشے جبکہ ہسپتالوں میں زیر علاج زخمی بچوں کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرما کر ان کے والدین کی گودیں دوبارہ آباد کرے آمین۔
حسبِ روایت سانحے کے........
