Mulzim Jinnah Hazir Ho
بردار عماد بزدار کی کتاب "ملزم جناح حاضر ہو" قائد اعظمؒ کا ایک مقدمہ ہے۔ جس میں قائدؒ پر لگے جا بجا مختلف الزامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کتاب کتنی اہمیت کی حامل ہے اس پر پاکستان کے صف اول کے کالم نگار اظہار الحق صاحب کے تاثرات ہی کافی ہیں جو کہ انھوں نے اس تصنیف کو آج کے پاکستان کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ جو بھی اظہار صاحب کی تحریروں سے واقف ہے وہ جانتے ہیں کہ اظہار صاحب کسی کی بے جا تعریف نہیں کرتے اور پھر ان کا نقد بھی خوب ہوتا ہے۔
اظہار الحق صاحب کے ساتھ اس میں سوشل میڈیا کی دو معروف خواتین (ثمینہ رشید آپی اور سحرش عثمان) جو کہ اب "انتہا پسند" کہلائی جاتی ہیں کہ بھی تاثرات شامل ہیں اور ان کے تاثرات اس بات کا واقعی ثبوت ہیں کہ یہ دونوں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد اور مولانا ابوالکلام آزاد کی پیش گوئیوں کے برعکس "مطالعہ پاکستان" سے شدید متاثر ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کو استقامت عطا فرمائے۔
کتاب کے مندرجات پر بات کرنے سے پہلے یہ چیز بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب فقط "جناح شناسی" نہیں بلکہ "گاندھی شناسی" پر بھی مشتمل ہے۔
یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے، چاروں ابواب میں قائدؒ کے ساتھ ساتھ گاندھی جی کا ذکر خیر ہے بلکہ آخری باب میں تو ہندی گاندھی کے ساتھ ساتھ سرحدی گاندھی کا بھی ذکر ہے۔
سب سے پہلی بات تو عماد نے یہ واضح کی ہے کہ قائد اعظمؒ ہندوستان کی سیاست میں گاندھی جی سے سینئیر تھے بلکہ 1915 میں جب گاندھی جی نے ہندوستان کی سیاست میں قدم رکھا تو خیر مقدم کرنے والے بھی جناحؒ تھے اور بقول جسونت سنگھ جناح صاحبؒ اس وقت ہی مکمل آزادی کے بارے میں واضح خیالات رکھتے تھے۔
اس وقت جناح صاحب، ہندو مسلم اتحاد کے شدید حامی تھے اور جابجا اپنی تقاریر میں اس کا اظہار کرتے تھے۔ پھر 1919 میں جب رولٹ ایکٹ پاس ہوتا ہے جس کے باغیوں کی سرکوبی کے لیے حکومت کو لامحدود اختیارات دیئے گئے تھے کہ خلاف جناح صاحبؒ شدید ردعمل دیتے ہوئے وائسرائے کونسل سے استعفیٰ دیتے ہیں اور برطانوی حکومت کی نظر میں ناپسندیدہ شخصیت ٹھہرتے ہیں۔
ہوم رول لیگ جس کی بنیاد 1916 میں مسز اینی بیسنٹ نے رکھی تھی اور یہ ہندوستان کی مکمل آزادی کی خواہش مند تھی۔ اس کی مقبولیت کے خوف سے برطانوی حکومت مسز اینی بیسنٹ کو گرفتار کرتی ہے تو جناح صاحبؒ بطور صدر اس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور یہاں بھی ہندو مسلم اتحاد کی بات کرتے ہیں۔
گاندھی جی کو ہوم رول لیگ میں بھی لے کر آنے والے جناح صاحبؒ تھے۔ گاندھی جی کی اس وقت کی شہرت ایک سماجی و سیاسی کارکن کی تھی۔ جب گاندھی جی ہوم رول لیگ میں قدم رکھتے ہیں تو اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کر لیتے ہیں اور اس کے دستور میں تبدیلی کے لیے اجلاس طلب کرتے ہیں جس کے لیے جناح صاحبؒ تیار نہیں تھے۔ گاندھی جی کے اس رویے کے خلاف جناح صاحبؒ اور........
