Kaghaz Ka Tukra Aur Aaj Ka Pakistan
کاغذ کا ٹکڑا اور آج کا پاکستان
بین الاقوامی تعلقات اور تاریخ کا ایک عالمگیر اصول ہے کہ ریاستوں کی بقا، خودمختاری اور استحکام جذباتی نعروں یا عارضی سمجھوتوں پر نہیں، بلکہ ٹھوس بصیرت، معاشی خود انحصاری اور حقائق پسندی پر مبنی ہوتا ہے۔ جب بھی کسی ملک کی سیاسی یا سفارتی قیادت اپنے معروضی حالات اور چیلنجز کا درست ادراک کیے بغیر یکطرفہ لچک کو حکمتِ عملی کا نام دیتی ہے، تو اس کے نتائج بالآخر قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے معاشی اور سیاسی نظام کو مضبوط کیے بغیر صرف غیر ملکی آقاوں اور کاغذی معاہدوں پر انحصار کرتی ہیں، وقت ان سے ان کا وجود اور عزت دونوں چھین لیتا ہے۔
ستمبر 1938ء کا میونخ معاہدہ اس سیاسی اور سفارتی طرزِ فکر کی ایک نمایاں اور عبرت ناک تاریخی مثال ہے۔ برطانیہ کے وزیرِ اعظم نیویل چیمبرلین نازی جرمنی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرکے جب لندن واپس پہنچے، تو انہوں نے ہوائی اڈے پر اس دستاویز کو لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے دور کے لیے امن لے کر آئے ہیں۔ چیمبرلین کا خیال تھا کہ اہم جغرافیائی مراعات دے کر اور دشمن کی شرائط مان کر جنگ جیسے بڑے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ٹالا جا سکتا ہے۔ اس وقت برطانوی قوم کو بھی یہی باور کرایا گیا کہ یہ ایک عظیم سفارتی فتح اور دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
تاہم، اس وقت برطانوی پارلیمنٹ میں ونسٹن چرچل کا موقف بالکل مختلف اور تحلیلی تھا۔ چرچل کو اس وقت کی سیاسی اکثریت نے غیر حقیقت پسند اور جذبات سے مغلوب قرار دیا، لیکن چرچل نے اس سفارتی پالیسی کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے جو جملہ کہا، وہ........
