Naya Nizam Aaj Ki Nahi, Dereena Khwahish Hai
"نیا نظام" آج کی نہیں، دیرینہ خواہش ہے
مستقبل پر توجہ دینے کے بجائے ذہن میں جمع ہوئے تجربات اور مشاہدات آپ کے روبرو رکھنے کا بنیادی مقصد یاددلانا ہے کہ "بوسیدہ اور مفلوج نظام" کو نظر بظاہر نیک نیتی کے ساتھ بدلنے کی خواہش وطن عزیز میں محسن نقوی صاحب جیسے بااثر افراد کی جانب سے پہلی بار سامنے نہیں آئی ہے۔ انہوں نے تو محض خواہش کا اظہار کیا اور ملک بھر میں قیاس آرائیوں کا کہرام مچ گیا۔ 12 اکتوبر1999ء میں لیکن ان دنوں کے آرمی چیف اسی نیت کے تحت بقول ان کے اقتدار سنبھالنے کو مجبور کردئے گئے تھے۔ وہ اور ان کے حامی بضد رہے کہ اگر انہیں سری لنکا سے پاکستان آتی پرواز کے دوران وزیر اعظم کے دفتر سے برطرف کرنے کا حکم جاری نہ ہوتا تو شاید "گلاسڑا" سیاسی نظام یوں ہی چلتا رہتا۔
بہرحال اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد انہوں نے قوم سے خطاب کیا۔ اس کے دوران گڈگورننس کے حصول کے لئے سات نکاتی ایجنڈا پیش کردیا گیا۔ ان کا خطاب نشر ہونے سے قبل مجھے ان دنوں پی ٹی وی کے ایم ڈی نے بذاتِ خود فون کے ذریعے اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی جو ان کے خطاب کے نشر ہوجانے کے فوری بعد براہِ راست نشر ہوتاتھا۔ براہِ راست نشر ہونے والے پروگرام میں شرکت کی دعوت سے میں حیران ہوا۔ منہ پھٹ کے طورپر بدنام ہوئے دو ٹکے کے اس رپورٹر کو ایک "حساس" خطاب پر براہ راست تبصرہ آرائی کی دعوت میرے لئے ناقابل یقین تھی۔ اس میں شرکت کو رضا مند ہوگیا اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے نہایت سینئراور مجھ سے کہیں زیادہ منہ پھٹ مانے ارد شیرکائوس جی کی اس رائے سے اختلاف کرتا رہا کہ جنرل مشرف کا اقتدار وطن عزیز کو کرپشن سے پاک کردے گا۔ مصر رہا کہ قوم کو جھوٹی امید نہ دلائی جائے۔ ماضی کے مارشل لاء بھی اسی نیت کے ساتھ آئے تھے۔ اپنے اہداف حاصل کرنے میں لیکن ناکام رہے۔
پروگرام میں شرکت کے بعد گھر........
