menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chamri Kis Taraf Se Utre Gi?

18 0
17.09.2026

چمڑی کس طرف سے اترے گی؟

حکومت کسی کی بھی ہو اور حکمران کوئی بھی، اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ چمڑی عوام ہی کی اتارنی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اختلاف اس بات پر رہتا ہے کہ چمڑی کس طرف سے اتاری جائے۔ ہمارے حکمرانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی شاید یہ ہے کہ وہ اپنے عہد سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کے فہم، صلاحیت، طرزِ فکر اور افتادِ طبع سے لے کر ان کی گفتگو تک، ہر چیز یہ بتاتی ہے کہ وہ اس دور کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ دنیا بدل چکی ہے، معیشت کے تقاضے بدل چکے ہیں، عوام کی ضروریات بدل چکی ہیں، مگر ہمارے حکمران اب بھی اسی پرانے اندازِ حکمرانی سے چمٹے ہوئے ہیں جہاں ہر مسئلے کا حل ایک نوٹس، ایک اجلاس اور ایک وقتی اعلان میں تلاش کیا جاتا ہے۔

بدترین ایڈہاک ازم اگر آج ہماری معیشت اور طرزِ حکمرانی پر مسلط ہے تو اس کی بڑی وجہ یہی فکری جمود ہے۔ کوئی سنجیدہ، مربوط اور دور رس معاشی حکمتِ عملی تشکیل دینے کے بجائے ہر بحران کے سامنے ایک عارضی حل رکھ دیا جاتا ہے اور پھر یہ توقع کی جاتی ہے کہ عوام اسے ریلیف سمجھ کر قبول کر لیں گے۔

پٹرول کی قیمتوں کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے۔ قیمت بڑھے تو وزیر اعظم نوٹس لے لیتے ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، اعلانات سامنے آتے ہیں اور بالآخر انتہائی غریب طبقے کے لیے سو روپے کے خصوصی ریلیف کی خبر دے دی جاتی ہے۔........

© Daily Urdu