menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tauqeer Nazir Ka Anjaam

41 0
22.10.2026

نیفے میں پستول چل جانے، عدالت میں پیشی کے لیے لے جاتے یا واپس لاتے ہوئے ملزم کو چھڑوانے کی کوشش میں اس کے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت، یا پولیس حراست سے فرار کے بعد تعاقب کے دوران مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے جیسی خبریں اخبارات میں آئے روز شائع ہوتی رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ جمعہ جمعہ آٹھ دن سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری و ساری ہے۔ انسانی حقوق کے مبصرین و ناقدین ایسی ہلاکتوں کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہیں اور ان کی شفاف، غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ملتان میں توقیر نذیر کا معاملہ بھی اسی تناظر میں کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خبروں کے مطابق، ایک کم عمر بچے کو گاڑی تلے کچلنے کے مقدمے میں گرفتار توقیر نذیر کو عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ بعد ازاں اس کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی اور پولیس کے مطابق وہ مبینہ مقابلے کے دوران اپنے ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا۔ توقیر نذیر پولیس کی تحویل سے فرار کیسے ہوا، وہ کن حالات میں ہلاک ہوا اور کیا اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات ہوں گی؟ جیسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات کے بغیر حقیقت تک رسائی ممکن نہیں۔

توقیر کی ماورائے عدالت ہلاکت کو اس زاویے سے بھی دیکھنے میں کوئی حرج نہیں کہ توقیر نذیر اگر زندہ رہتا تو پولیس کو اسے عدالت میں پیش کرنا پڑتا، اس کی حفاظت کا انتظام کرنا پڑتا، اسی عمل میں پولیس کو خود بھی جسمانی و مالی نقصان اٹھانے کا قوی امکان ہوتا، تفتیش مکمل کرنا ہوتی اور مقدمے کو منطقی انجام تک........

© Daily Urdu