Naye Soobay Aur Nawaz League
نئے صوبے اور نواز لیگ
سچی بات یہ ہے کہ نئے صوبوں (یا ایڈمنسٹریٹیو یونٹس) کے معاملے پر مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی بنتی ہی نہیں۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی اسما نواز، خواجہ آ صف اور رانا ثناءاللہ کے بیانات پرسینئر صحافیوں نے ایسی خبریں یا تجزیے بھی دئیے کہ میاں نواز شریف نے ہیڈز آن، کا فیصلہ کر لیا ہے مگر بعدازاں واضح ہوا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ مشاورت میں اداروں کے ساتھ باہمی اعتماد کو برقرار رکھنے اور تصادم میں نہ جانے کی ہدایات دی ہیں۔
یہ ایک واقعی بڑی خبر تھی کیونکہ سوشل میڈیا پر یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ موجودہ سیٹ آپ سے خوش نہیں ہیں اور میں اس پر اکثر سوال کرتا ہوں کہ اگر وہ خوش نہیں ہیں تو یہ سیٹ آپ قائم ہی کیوں ہے۔ اس پر دوسری رائے دی جاتی ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز ان کو اس سیٹ آپ پر لائے ہیں تو میرا دوسرا سوال ہوتا ہے کہ کیا آپ نواز شریف کے اس کے سگے بھائی اور سگی بیٹی سے زیادہ ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔ جب ہم مستقبل کی بات کرتے ہیں تو سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز بھی یہی دونوں ہیں۔ بہرحال میرا آج کا موضوع میاں نواز شریف کے میاں شہباز شریف اور مریم نواز شریف سے تعلقات نہیں ہیں، جن کا ہیں وہ جانیں۔
جب ہم وزیر داخلہ محسن نقوی یا پاک افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے موقف کو زیر بحث لاتے ہیں توا ن میں دوباتیں واضح ہیں، پہلی بیڈ گورننس کی ہے اور اسی کی بنیاد پر سسٹم کی اصلاح کا مطالبہ ہے اور یہاں سے ہی نئے صوبوں کی........
