menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shehr e Quaid: Khamosh Muashi Qatal Gaah

20 0
15.10.2026

​شہرِ قائد: خاموش معاشی قتل گاہ

شہر قائد کی فضاؤں میں ایک عجیب سی اداسی، خوف اور خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ یہ وہ شہر اور پناہ گاہیں تھا جہاں کبھی خوشیاں بستیں تھیں، لیکن آج اسی شہر کی گلیوں اور محلوں سے مایوسی کی صدائیں آ رہی ہیں۔ لوگ روزگار نہ ملنے، مہنگائی اور تنگ دستی سے اس قدر عاجز آ چکے ہیں کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے پیاروں کا گلا گھونٹ رہے ہیں اور خود بھی ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے منہ موڑ رہے ہیں۔ یہ شہر، جو کبھی روشن اور امیدوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور جہاں لوگ دور دور سے روزگار کی تلاش میں آتے تھے، اب ایک ایسی معاشی قتل گاہ بن چکا ہے جہاں غریب اور متوسط طبقے کا انسان روزانہ اندر سے ٹوٹتا اور مرتا ہے۔

​بن قاسم ٹاؤن کے علاقے گلشن فلک ناز سوسائٹی کا دل دہلا دینے والا واقعہ ہو یا کچھ عرصے پہلے گلشن معمار احسن آباد کے فلیٹ میں ڈاکٹر عمر اور ان کے پورے خاندان کا دردناک خاتمہ، یہ چند حادثات نہیں بلکہ یہ اس فرسودہ اورناکام نظام کا سچ ہیں جو عوام کو جینے کا بنیادی حق دینے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

​اگر گلشن فلک ناز گلشن حدید کے واقعے پر نظر ڈالیں تو ایک بند فلیٹ میں پراپرٹی کا کام کرنے والے شاہ زیب نے پہلے اپنی بیوی صبا، بیس سال کی جوان بہن شمائلہ اور دو ننھی چھوٹی بچیوں ایزل اور آریہ کو زہر دیا اور پھر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی ختم کر لی۔ جائے وقوعہ سے ملنے والا خط چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ یہ خاندان کس قدر شدید مالی........

© Daily Urdu