Pasban e Harmain Sharifain
یہ محض اتفاق نہیں کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان دن میں پانچ مرتبہ ایک ہی مرکز کی طرف رخ کرتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امتِ مسلمہ کا دل مکہ مکرمہ میں دھڑکتا ہے اور اس کی روح مدینہ منورہ کی گلیوں میں سکون پاتی ہے۔ بیت اللہ صرف پتھروں کی ایک عظیم عمارت نہیں، بلکہ توحید کا پرچم، امت کی وحدت کا نشان اور ملتِ اسلامیہ کی اجتماعی غیرت کی علامت ہے۔ روضۂ رسول ﷺ صرف ایک مقدس مقام نہیں، بلکہ ہر عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی دھڑکن ہے۔
حرمین شریفین کی حفاظت کسی ایک حکومت، ایک قوم یا ایک خطے کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی دینی، اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری ہے۔ جب بھی مکہ و مدینہ کی طرف کوئی میلی آنکھ اٹھتی ہے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل بے چین ہو جاتے ہیں، کیونکہ حرمین شریفین سے محبت ایمان کی حرارت اور عقیدت کی نشانی ہے۔
آج دنیا ایک نئے عالمی صف بندی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ آگ و خون کے امتحان سے دوچار ہے، مسلم دنیا مختلف بحرانوں میں گھری ہوئی ہے اور دشمن قوتیں ہمیشہ امت کے اتحاد سے خائف رہی ہیں۔ ایسے نازک حالات میں مکہ........
