menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Adoori Manzil

31 0
29.09.2026

آر ایچ کیو ہسپتال کے باہر ایمبولینس کے سائرن کی آواز گونج رہی تھی۔ ایمبولینس ابھی ہسپتال کے دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ عملہ جلدی جلدی اس کے سامنے جمع ہوگیا۔ ڈرائیور نے بے تابی سے گاڑی روکی، دروازہ کھولا اور تیزی سے نیچے اترا۔ اس نے پچھلا دروازہ کھولا تو اندر خون میں لت پت ماسٹر علی بے ہوشی کی حالت میں پڑے تھے۔ دو اہلکاروں نے انہیں احتیاط سے وہیل چیئر پر منتقل کیا اور ایمرجنسی کی طرف لے گئے۔ کسی کے چہرے پر بے قراری تھی، کسی کی آنکھوں میں خوف تھا اور کسی کے ہونٹ مسلسل دعاؤں میں ہل رہے تھے۔ خطرناک حادثے میں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور جسم سے خاصا خون بہہ چکا تھا۔ ایمرجنسی کے دروازے کے باہر کھڑے عزیز و اقارب اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اگلے چند لمحے ماسٹر علی کی زندگی کے بارے میں کیا فیصلہ سنانے والے ہیں۔ سب کی زبان پر ایک ہی دعا تھی ماسٹر علی بچ جائے۔

ماسٹر علی جب اٹھارہ سال کے تھے تب ان کے والد نے ان کی شادی کرا دی۔ ان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر والد کو گھر میں کام کرنے کے لیے بہو چاہیے تھی۔ شادی کے بعد ان کو اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑنی پڑی اور گھر کی ذمہ داری اٹھانی پڑی۔ انھوں نے اپنے والد صاحب سے کئی بار کہا کہ وہ اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتے ہیں مگر والد صاحب نے سختی سے منع کیا اور انھیں مجبوراً مزدوری کرنی پڑی۔

کئی سالوں تک یہی سلسلہ جاری رہا اتنے عرصے میں ان کے ہاں تین اولادیں ہوئیں۔ گھریلو اخراجات بڑھ رہے تھے مگر اس کے دل میں تعلیم مکمل کرنے کی خواہش شدت اختیار کر رہی تھی۔ اسی لیے انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بی ایس اردو میں داخلہ لیا۔ سب دوست یار مذاق اڑانے میں لگ گئے کہ تیس سالہ آدمی اور تین بچوں کے باپ کو کیونکر پڑھائی کی سوجھی ہے۔ مگر انھوں نے کسی کی پروا کئے بغیر اپنی مزدوری اور ساتھ ساتھ پڑھائی جاری رکھی۔ دن بھر مزدوری کرتے تھے اور رات کو ادب کی کتابیں پڑھتے تھے۔ ان کی زندگی کے دو ہی مشغلے رہ گئے تھے مزدوری کرنا اور پڑھائی کرنا۔ دن بھر کی مزدوری سے ہونے والی تھکاوٹ رات کو غالب اور میر کی ایک غزل تشریح کے ساتھ پڑھنے سے دور ہو جاتی۔

ماسٹر علی بچپن سے ہی پڑھائی میں دلچسپی لیتے تھے لہذا ان کے لیے پڑھنا ذہنی عیاشی جیسا تھا۔ جس دن اسے کام سے چھٹی ہوتی اس دن بھی وہ کتابیں پڑھتے رہتے، ان کی آمدنی اتنی کم تھی کہ وہ کوئی........

© Daily Urdu