menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kash Waqt Pathar Ka Ho Jaye

21 5
05.02.2026

ایک دریا ہے یا یوں سمجھوں اس دریا میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور ایک انسان ہے پتہ نہیں زندہ ہے یا مردہ ہے لیکن لہروں کے رحم و کرم پر پڑا ہوا ہے۔ وہ نہ لہروں سے رحم کی بھیک مانگتا ہے، نہ لہروں کو چھیرنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ لہروں کے پار جانے کی اس کی کوئی آرزو ہے، نہ اسے کوئی امید ہے کہ کوئی آکے اسے ان لہروں سے بچائے گا اور نہ اسے یہ پتہ ہے کہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتی یہ لہریں کب شور مچانا چھوڑ کے خاموش ہو جائے گی۔

ایسا نہیں ہے کہ اس نے پہلے پہل کوئی مزاحمت نہیں کی، اس نے ہاتھ پاؤں مارے، اس نے گلا پھاڑ کے انسانوں کو پکارا، انسانوں سے اکتا کے خدا کو آواز دی لیکن خدا بھی خاموش تھا اور اس کی مدد کو کوئی نہیں آیا اور پھر اس نے اپنا آپ خوشی خوشی ان لہروں کو سونپ دیا اور اب یہ ان لہروں کی مرضی ہے وہ جہاں چاہے اسے لے چلے اور اس کے ساتھ جو بھی کرے، اسے نہ کوئی شکوہ ہے نہ شکایت ہے، نہ اسے تسلی چایئے اور نہ کسی کی داد، حتی کہ اسے اب کسی کا خود کے لئے پریشان ہونا اور ماتم کرنا بھی برا لگتا ہے۔

سنو! وہ انسان میں ہوں، اب تم بتاؤں میں کیسی ہوں؟ میری زندگی کیسی کٹ رہی ہے؟

یا یوں تصور کرلوں وہ انسان تم ہوں۔۔ نہیں، نہیں۔۔! تمہیں تو پانی سے ڈر لگتا ہے، تم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے، تم اگر ایسا سوچوں گے بھی تو تمہاری جان نکل جائے گی۔ دیکھوں دیکھوں! چہرے پر ابھی سے ہوائیاں اڑ رہی ہے۔ اس نے قہقہہ لگایا۔ ہاں وہی پاگلوں والا قہقمہ!

شاید قہقہہ پاگل ہی لگا سکتے ہیں، باشعور اور حساس انسانوں کو اداس رہنے کے لئے ہزار وجوہات مل جاتے ہیں۔

میں اسے پاگل اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کبھی وہ کسی قنوطی یعنی زندگی سے مایوس فلسفی کی طرح بولتی ہے، کبھی ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی پروفیسر ہے، زندگی اور ادم بیزاری اس کا پسندیدہ موضوع ہے اور حیران کردینے والے انکشافات کرنا اس کی عادت ہے، تو کبھی لگتا ہے وہ کوئی معصوم بچی ہے جو کسی بات پر قہقہہ لگا رہی ہے۔ وہ خود کو زندگی سے بیزار کہتی ہے، اکثر یہ بیزاری اس کے پورے وجود سے چھلکتی ہے لیکن کبھی کبھی وہ اتنا دل کھول کے........

© Daily Urdu